جمعہ, 20 جولائی 2018


ٹیکس ایمنسٹی اسکیم معاشی بھنور سے نکلنے کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے

 

ایمزٹی وی(تجارت)فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک محمد بوستان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایمنسٹی اسکیم کوعالمی مالیاتی اداروں سے نئے قرضے لینے کے مقابلے میں بہتر اقدام قراردیتے ہوئے کہاکہ اس سے بیرون ملک پاکستانیوں کی رقوم کی نہ صرف ترغیب کے ساتھ واپسی ممکن ہوسکے گی بلکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائرکا حجم بھی بڑھے گا مگر اسکیم پر تنقید یا رکاوٹ ڈالنے سے ملک اربوں ڈالر کی واپسی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
ملک بوستان نے بتایا کہ سال1992 سے1998 کے دوران حکومتی اقدامات کے تحت ہی پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے بینکاری چینل اور ڈیکلریشن کے بغیر اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کرکے دبئی سمیت دیگر ممالک میں تقریباً 300 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کی تھی، اسی قانون کے تحت پاکستانیوں نے دبئی، لندن سمیت دیگر ممالک میں جائیدادیں خریدیں، 1998 میں یہ قانون ختم کردیا گیا، اب ان کے سرمائے کا حجم بڑھ گیا لیکن پاکستان میں قوانین کی تبدیلی کی بنا پر وہ اپنی رقوم پاکستان منتقل نہیں کرپارہے، ان حقائق کے تناظر میں حکومت کی ایمنسٹی اسکیم کا اعلان مستحسن اقدام ہے لیکن اس اعلان کے ساتھ ہی اپوزیشن کی تنقید سے بیرون ملک سے سرمائے کی منتقلی خطرے میں پڑجائے گی جس کیلیے ضروری ہے کہ وفاقی حکومت قومی مفاد میں عدلیہ اور اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے بیرون ملک سے دھن لے کر آنے والوں کو تاحیات قانونی تحفظ فراہم کرے تو پہلے مرحلے میں ہی ایمنسٹی اسکیم کے تحت 40 ارب روپے کے سرمائے کی منتقلی ممکن ہوجائے گی۔
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر نے بتایا کہ کلکٹر ویلیو اور فری مارکیٹ ویلیو کے دہرے نظام سے محاصل کے اہداف حاصل نہیں ہورہے تاہم جائیداد رجسٹریشن پر 1فیصد ٹیکس کرنے سے محاصل میں اضافہ ہوگا، ہزاروں صاحب حیثیت افراد کے باوجود ہم قرضوں پر سالانہ 5ارب ڈالر سود دے رہے ہیں۔
کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدرعبداللہ ذکی نے متعارف کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو متوازن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی اثاثوں کو ظاہر کرنے سے فوری طور پرتقریباً 3 ارب ڈالرحاصل ہوسکتے ہیں اورملک میں واپس آنے والی رقوم ٹیکس نیٹ کا مستقل حصہ بینں گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پراسکے اصل روح کے مطابق عمل درآمد سے معاشی بحران پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکے گا، ملک میں لوگوں کی بڑی رقوم جو وہ ظاہر نہیں کر پا رہے سسٹم میں شامل ہوکر معاشی ترقی کا باعث بنے گی۔
عبداللہ ذکی نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس شرح کئی ممالک سے زیادہ ہونے کے باعث چوری کا عنصر کئی گنا بڑھ چکا تھا، ٹیکس ایمنسٹی اسکیم معاشی بھنور سے نکلنے کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں شناختی کارڈ چپ سے منسلک کیا جارہا ہے اب کچھ چھپایا نہیں جا سکتا، شناختی کارڈ کو این ٹی این کے ساتھ منسلک کرنے سے ٹیکس نیٹ بڑھے گا۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment