بدھ, 20 جون 2018


کراچی لٹیروں کے لئے سونے کی چڑیا

 

 

ایمزٹی (ٹی وی)جب آپ کرائم کا سوچتے ہیں سب سے پہلا خیاال اسٹرائٹ کرائم کا آتا ہے۔ اسٹریٹ کرائم کی بہت ساری قسمیں ہیں جیسے کہ کرائم کسی شخص کے ساتھ ہونا، کسی پراپرٹی کے ساتھ ہونا یا کسی ڈرگ کرائم کی فروخت ہونا یا کرنا۔
کراچی لٹیروں کے لئے سونے کی چڑیا بن گیا، بندوق کی نوک پر موبائل چھننا، بٹوا نکالنا ، موٹر سائیکل آڑانا معمول بن گیا ہے۔ کراچی آپریشن سے ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کا زور ٹوٹا لیکن اسٹریٹ کرائم بڑھ گئے۔ موبائل چوری کی وارداتیں میں بھی کراچی وارداتوں میں اضافی ہوا۔ آپریشن سے قبل دو سال میں 23 ہزار،372وارداتوں کے مقابلے میں آپریشن شروع ہونے کے بعد دو سال میں موبائل چوری کی38610شکایتیں موصول ہویں ۔ ایک جانبب جہاں اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا وہیں گاڑیاں چوری اور چھننے کی وارداتوں میں کمی ہوئی۔
2017کی پہلے ہفتے کی رپورٹ 
40لوگوں کی گاڑیاں چھننی گئی۔
511موٹر سائکلیں گئیں
503موبائل فون گئے۔
کراچی میں کچھ جگاہیں ہیں جہاں یہ وارداتیں بہت ہوتی ہیں جیسے کہ:
ڈسکو بیکری
الادین پارک
ڈولمن مال
ملینیم مال
بلوچ کالونی
نورانی کباب
نیپا
اسٹریٹ کرائم میں اضافہ کی وجہ تعلیم کی کمیاور ایک وجہ جہالت ہے کہ بغیر سوچے سمجھے ہمارے معاشرے اور اکنومی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کی دوسری وجہ غربت اور ملازمت کی کمی بھی ہے جس کی وجہ سے یہ کرائم دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور اس کرائم میں اضافے کی وجہ خود پولیس اہلکار بھی ہیں جن کے ذمہ اس شہر کی حفاظت کرنا ہے اور وہ خود کسی سڑک کنارے رشوت لیتے دیکھائی دیتے ہیں جو خود کرائم کے زمرے میں آتا ہے۔


کراچی لٹیروں کے لئے سونے کی چڑیا by aimstv_tv

اسٹریٹ کرائم کو رو کنے کے لئے ہمیں اپنے سسٹم کو صھیح کرنا ہوگا ، قانونی نظام کو بہتر کرنا ہوگا اور سیاسی بھرتیاں روکنے پڑیں گی اور اس کو ختم کرنے کے لئے ان چیزوں پر غور کرنا ہوگا جس کی وجہ سے انسان کرائم کی طرف راغب ہوتا ہے۔

بڑھتی ہوئی کرائم کو روکنے کے لئے جرائم پیشہ افراد کی جگاہیں ختم کرنی ہوگی۔جن بااثرلوگوں کی زیر نگرانی تمام تر کاروایاں ہوتی ہیں انہیں کیف کردار تک پہنچانا ہو گا ۔ کراچی آپریشن کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اسٹریٹ کرائم اور دیگر سنگین وارداتوں کے خلاف فوری حکمت عمل تیار کرنی ہوگی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بلاتفریق کاروائی کراچی سے جرائم کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہیں ۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment