جمعرات, 21 جون 2018


پاکستانی معاشرہ اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی

 

 

تحریر : عاصم کاظمی

ایمزٹی وی(کالم/رپورٹ)پاکستانی معاشرے پر انتہا پسندی کا اثر ورسوخ اکثر غالب رہا ہے اور یہ کافی جگہ اپنی مختلف شکلوں میں ظہور کرتا رہتا ہے، یہ اثر آپ کو مدرسوں میں بھی نظر آئے گا اور جامعات میں بھی، یہ آپ کو پوش علاقوں کے بنگلوں میں بھی نظر آے گا اور کچی آبادیوں کی جھونپڑیوں میں بھی، یہ سیاست دانوں اور کھلاڑیوں میں بھی نظر آئے گا، الغرض ہر شعبے میں کسی ناکسی شکل میں موجود ہے اور اکثر اپنا مکروہ چہرہ عیاں کرتا رہتا ہے۔
ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں وہاں رائج ہوچکا ہےکہ جو شخص دہشت گردی کرتا ہے یا تکفیر کے نعرے بلند کرتا ہے یا کسی کے خلاف بے بنیاد جھوٹا پرو پیگنڈا کرتا ہے وہ ہی انہا پسند ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ انتہا پسندی ہے لیکن یہ انتہاپسندی کی بہت آسان اور سادہ مثال ہے جبکہ دراصل انتہا پسندی عدم برداشت کو کہتے ہیں کہ کسی بھی بات کو سنے بغیر اور حقیقت جانے بغیر اسے سچا مان کر اس کے خلاف فکری، زبانی اور جسمانی مزاحمت سامنے آئے۔
پاکستانی معاشرے میں انتہا پسندی کا کافی اثر ورسوخ رہا ہے اور یہ کافی جگہ اپنی مختلف شکلوں میں ظہور کرتا رہتا ہے، یہ اثر آپ کو مدرسوں میں بھی نظر آئے گا اور جامعات میں بھی، یہ آپ کو پوش علاقوں کے بنگلوں میں بھی نظر آے گا اور کچی آبادیوں کی جھونپڑیوں میں بھی، یہ سیاست دانوں میں بھی نظر آیے گا اور کھلاڑیوں میں بھی، الغرض ہر شعبے میں کسی ناکسی شکل میں موجود ہے اور اکثر اپنا مکروہ چہرہ عیاں کرتا رہتا ہے۔
چند روز پہلے پاکستان کے صوبہ خیبر پختنخواہ کے شھر مردان میں ولی خان یونیورسٹی میں پڑھے لکھے، باشعور انتہا پسندوں نے بربریت کا وہ میدان لگایا کے الحفیظ والامان۔۔۔۔
قتل کرنے والوں میں گریجویشن اور ماسٹرز کے طالب علم تھے اور قتل ہونے والا بھی انتہائی لائق طالب علم جس کی پوری ٢٣ سالہ زندگی کامیابیوں پر محیط ہے، اور جس الزام کو بنیاد بنا کر اس مشعل کو بجھادیا گیا وہ تھا توہین رسالت (ص) کا۔
منصفین میں سینکڑوں طالب علم شامل تھے جس میں بہت سو کو تو یہ بھی معلوم نا تھا کہ آخر یہ تشدد ہو کیوں رہا ہے وہ تو بس نعرہ تکبیر کی صدا سن کر اس اندھی بھیڑ میں داخل ہو گئے تھے اور پھر اس مشعل کو اس بربریت سے مارا کے بربریت سے کچلا کے بربریت خود سہم گئی۔
مشعل اب نہیں رہا وہ بجھ چکا ہے وہ اپنے ہی طالب علم ساتھیوں کے ہاتھوں روند دیا گیا ہے اس جرم کی سزا پائی ہے اس نے جو اس پر اب تک ثابت ہی نا ہوا۔
سوال یہ ہی پیدا ہوتا ہے کہ کہ آخر یہ ظلم کی داستاں رقم کیوں ہوئی اور کیا ایسی وجوہات تھیں جن کی بنا پر حیوانیات نے اپنا کھیل کھیلا ہے۔ بلاشبہ ان باشعور و پڑھے لکھے طالبعلموں نے یہ جہالت کی جو داستان رقم کی ہے اس پر تو جاھل بھی منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔
اس واقعہ کی وجہ آپسی چپقلش ہو یا دو طلبہ تنظیموں کی سیاسی رنجش یا پھر کچھ اور، کیا طالب علموں کو یہ عمل اختیار کرنا چاہیے؟
جو کہ مشعال کہ ساتھ رکھا گیا کہ اگر مشعال قصوروار بھی تھا تو قانون اسے گرفت میں لیتا نا کہ یہ ایک مادر علمی میں قانون کو روندتے۔
املزم گرفتار ہوچکے ہیں اور عدالت میں مقدمہ چلنا شروع بھی ہوگیا ہےاچھی بات ہے ملزموں کو گرفتار کرے، انھیں سزا دلوائے اور یہ تو کچھ عرصے میں ہوجائے گا، لیکن سوال تو یہ ہے کہ اس انتہا پسندی کو کیسے روندیں جو ہم سب میں سرایت کر چکی ہے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment