جمعرات, 21 جون 2018


اردولازم ہے مظلوم نہیں

 

تحریر محمد دانیال خان
 
ایمزٹی وی(کالم/ رپورٹ)” سب سے پہلے زباں کیا ہے کیا یہ سکرپٹ راسم الخط ہے؟ تو ایسا بالکل نہیں، اگر میں کہوں یہ ہال ایئر کنڈیشنڈ ہے تو کیا میں انگریزی بول رہا ہوں؟ میں انگریزی نہیں بول رہا حالاں کہ دو لفظ جو پوری معلومات دے رہے ہیں وہ انگریزی میں ہیں اور میں انگریزی نہیں بول رہا، بس اک جگہ معمولی سا ”یہ ”لگا ہے اور اک جگہ ”ہے ”لگا ہے دراصل زبان لغت ہے، اُرْدُو زباں کے کچھ پہلو تعریف کے قابل ہیں جیسے کے شاعری، کسی بھی زبان کی شاعری ہو وہ شروع ہوتی ہے خدا کی تعریف سے پر اُرْدُو شاعری پہلے دن سے ہی عبادت گاہ سے باہر تھی، ہاں یہ ضرور ہے کے اسکے بعد مختلف زبانوں نے یہ طریقہ آزمایا ہم کوئی ٹھیکہ نہیں لے رہے کے یہ صرف ہم نے ہی کیا پر ہمیں فخر ہے کے ہم نے پہلے دن سے کیا، اٹھاارویں صدی انسان کی تاریخ میں کچھ زیادہ سال نہیں ہوئے اس دور میں اک مہذب گھرانے کے آدمی نئے قرآن کا ترجمہ اُرْدُو میں کردیا تو اسکا حقہ پانی بند کردیا گیا اور اسکے ستر برس بعد اِس زبان کے سَر پر ٹوپی پہنا دی گئی . اک شخص کی بحث آرزو لکھنوی صاحب سے ہوئی کے آپکی اُرْدُو تو بنا فارسی اور عربی الفاظ کے لاچار ہے تو جواب میں انہوں نئے اک پوری کتاب لکھ دی جس میں اک بھی لفظ فارسی یا عربی میں نہیں تھا . اِس زبان کا بٹوارہ اٹھاارویں صدی میں ہی فورٹ ولیم کالج سے ہو گیا تھا پر عمل 1947 کے بٹوارے میں ہوا زبان علاقوں کی ہوسکتی ہے مذہبوں کی نہیں بنگال کی زباں بنگالی ہوگی پنجاب کی زباں پنجابی ہوگی پر اِس زبان کے ساتھ سوتیلا برتاؤ ہوا اور اسے لکھنؤ دہلی اور آگرہ سے نکال کر سندھی بلوچی اور پختون کے پاس بھیج دیا گیا کیا یہ سہی ہوا؟ اب تو سنیما یا آج کل کی فلموں میں کوئی زبان ہی نہیں ہوتی اب ہم بے زبان ہوچکے ہیں بلکہ بدزبان . آج کے دور میں بچے انگریزی بولنے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور جو اُرْدُو بولے وہ جاہل آج بھی جو طنزو مزہ اور لذت اُرْدُو میں پائی جاتی ہے دُنیا کی کسی زباں میں نہیں .
شاعر نے کیا خوب کہا ہے،
وہ جب بات کرے تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی زباں تو وہی بولے جسے زباں اُرْدُو آئے
اُرْدُو کو اِسی عوام نے پالا پوسا ہے اور یہ یہاں کی ہی زبان ہے، بادشاہوں تک تو یہ تب پہنچی جب وہ ہوچکی تھی جب وہ بن چکی تھی یہ زبان میر اور غالب کی دین ہے اور آج بھی اس کے چاہنے والے دُنیا کے ہر گوشے میں موجود ہیں اور کڑوی سچائی ان لوگوں کے لیے جو انگریزی کو اُرْدُو پر ترجیح دیتے ہیں کے اُرْدُو کی سکرپٹ سمٹ رہی ہے پر اُرْدُو زباں پھیل رہی ہے اُرْدُو زباں کے فروغ کے لیے مِنٹو کے افسانے ہمیں سچائی اور اِس معاشرے کی کڑوی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے ہمارے ذہن و گمان پر اتنے حاوی ہوجاتے ہیں جس سے ہمارا ضمیر برے کامو سے روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اب میں نے تو یہ بھی سنا ہے کے سالے جماعت مصرعہ اولا کی نغمہ سنجی میں مصروف ہے تاوقت یہ کہ دیگر اصحابِ جماعت باقیہ ارکان کی ادائیگی کر رہے ہیں جسکا مطلب ہے پہلا شخص پہلی لائن گا رہا ہے اور باقی لوگ باقی لائن یقینا اُرْدُو کے مشکل الفاظ بولنے یا لکھنے سے اس لیے نہیں گھبرانا چاہیے کیونکہ الفاظ زبان نہیں بلکہ زبان کا حصہ ہے سادہ زبان نوجوانوں کے لیے بہتر ہے پر اس زباں کو توڑ مروڑ کر بولنا بھی درست نہیں، حتی کے پطرس بخاری، ابن انشا اور ایسے دیگر ہستیوں نے اردو کو لوگوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اب والدین کی باری ہے کے وہ اپنے بچوں کو اردو پڑھنے اور لکھنے کی ترغیب دیں اور انہیں اِس زبان کی اہمیت بتائیں تاکہ انہیں بھی فرانس کے لوگوں کی طرح اپنی زبان پر فخر محسوس ہو لللہ یہ مشکل تو ہے پر اردو ہم لوگوں کی زبان ہے یہ کبھی ختم تو نہیں ہوسکتی پر ابھی بھی اردو کے عاشق بازار میں غالب اور میر کی شاعری کے دیوانے بنے انکی کتابیں دھوپ کی سختی کے باوجود ابھی بھی ڈھونڈتے ہیں اور بڑے شوق سے پڑھتے بھی ہیں
سلیقے سے ہواؤں میں خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُرْدُو بول سکتے ہیں
 

 

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment