جمعرات, 21 جون 2018


Aliensزمین پر اتر آئے!!!

 

ایمز ٹی وی(رپورٹ) ناسا کی جانب سے مریخ پر پانی کے بڑے ذخیروں کی موجودگی کے اعلان نے ایلین سے متعلق سائنس دانوں کے نظریات کو کسی حد تک سچ ثابت کردیا ہے اور اب کچھ ماہرین فلکیات اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایلین زمین کا اکثر و بیشتر دورہ بھی کرتے رہتے ہیں اور یو ایف او کو مسلسل دیکھنا اس کا ثبوت ہے۔
سائنس دانوں نے ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ مریخ پر بسنے والے ایلین زمین کا دورہ کر چکے ہیں تاہم وہ ابھی تک اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔ کچھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مخلوق انسان سے کہیں زیادہ ذہین اور ٹیکنالوجی سے مزین ہے اور اگر وہ زمین پر آگئے تو انسانی وجود کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ عالمی شہرت یافتہ سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ نے 2010 میں کہا تھا کہ اگر ایلین نے زمین کا دورہ کیا تو یہاں انسان کو حال وہی ہوگا جیسا کولمبس کے امریکا دریافت کرنے کے بعد وہاں کے مقامی امریکن کے ساتھ ہوا اور وہ اپنی زمین پر غلام بن گئے۔
مشہور ماہر فلکیات کارل سیگن کا کہنا ہے کہ انسان اس کائنات کے نئے بچے ہیں تاہم کسی چیز کے بارے میں جاننے سے قبل اس کے بارے میں چیخ و پکار کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ برطانیہ کی اہم آبزرویٹری یونیورسٹی آف ہرٹ فورڈ شائر کے سائنس دان مارک گالا وے کا کہنا ہے کہ انسان زمین پر سپر پری ڈیٹر ہے جب کہ خلا میں موجود سپر پری ڈیٹرز ہم سے زیادہ طاقت ور اور حملہ آور ہیں اور اگر وہ زمین پر آئے تو یہاں ان ہی کا قبضہ ہوگا اس لیے ہمیں اس سے متعلق کچھ کرنا ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انسان کوایلین سے متعلق محتاط رہنا چاہئے اور تاریخ گواہ ہے جب بھی زیادہ جدید ٹیکنالوجی رکھنی تہذیت کم ترقی یافتہ تہذیت سے ٹکرائی تو کم ترقی یافتہ تہذیب شکست کھا گئی۔
کچھ سائنس دانوں نے تھیوری ’ڈارک ایکویشن‘ میں دعوی کیا ہے کہ کائنات میں بسنے والی مخلوقات سمندر کی ریت کے ذروں سے بھی زیادہ ہے تاہم اس مخلوق سے رابطہ نہ ہونا پر اسرار ہے دیکھنا ہے کہ یہ راز کب کھلتا ہے۔ برطانیہ میں کیے گئے سروے کے مطابق ہر دوسرا برطانوی، امریکی اور جرمن اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ کائنات میں انسان سے کہیں زیادہ ذہین مخلوق موجود ہے جب کہ ان میں سے اکثر کا کہنا کہ چونکہ ایلین زمین سے بہت فاصلے پر ہیں اس لیے ان سے رابطہ ممکن نہیں اور 17 فیصد کا خیال ہے کہ سائنس دان اس سے رابطہ کر چکے ہیں لیکن اسے عام لوگوں سے چھپایا جا رہا ہے۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment