منگل, 22 اکتوبر 2019


1965کی جنگ ایک داستان

1947 میں تقسیم ہند کے بعد ہی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان خاصی کشیدگیاں رہیں۔ اگرچہ تمام مسائل میں مسئلہ کشمیر سب سے بڑا مسئلہ رہا مگر دوسرے سرحدی تنازعات بھی چلتے رہے مثلا رن کچھ کا مسئلہ جس نے 1956ء میں سر اٹھایا۔ رن آف کچھ بھارتی گجرات کا ایک بنجر علاقہ ہے، اس مسئلے کا اختتام بھارت کے متنازع علاقے پر دوبارہ قبضے سے ہوا۔ جنوری 1965ء میں پاکستانی سرحدی محافظوں نے بھارتی علاقے میں گشت شروع کر دیا جس کے بعد 8 اپریل 1965 کو دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرحدی پوسٹوں کے اوپر حملے شروع کر دیے۔ابتدا میں دونوں ممالک کی سرحدی پولیس کے درمیان یہ تنازع چلتا رہا مگرجلد ہی دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے آگئیں۔ جون 1965ء میں وزیر اعظم مملکت متحدہ مسٹر Harold Wilson نے دونوں ممالک کوقائل کر لیا کہ کشیدگی کم کر کے اپنے مسائل ایک ٹریبونل کی مدد سے حل کریں۔ فیصلے کے مطابق جو بعد میں 1968ء میں آیا پاکستان کو رن آف کچھ کا 350 مربع میل (910 کلومیٹر2) کا علاقہ دیا گیا جبکہ پاکستان نے 3,500 مربع میل (9,100 کلومیٹر2)۔ کے علاقے کا دعویٰ کیا تھا۔
 
اس کے بعد آپریشن جبرالٹر مزید کشیدگی کا باعث بنا۔ جس کا پس منظر یہ ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے درگاہ حضرت بل کی بے حرمتی نے کشمیری مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہوا تھا۔ کشمیر کی یہ وہ صورت حال تھی جس سے پاکستان نے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ آپریشن جبرالٹر کے نتائج خاصے خطرناک نکلے اور اسی آپریشن کے بطن سے 1965ء کی پاک بھارت جنگ نے جنم لیا۔
 
1965ء کی جنگ بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلی فضائی جنگ تھی۔ بھارتی فضائیہ کو پاک فضائیہ پر عددی لحاظ سے برتری حاصل تھی لیکن پاکستانی طیارے ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھارت کے مقابلے میں زیادہ جدید تھے۔ جنگ کے وقت بھارتی فضائیہ کے پاس 28 لڑاکا اسکوڈرن جبکہ پاکستان کے پاس صرف 11 اسکواڈرن تھے۔ پاک فضائیہ نے آناً فاناً دو دن میں بھارت کے 35 طیارے تباہ کردیئے جن میں 6 ستمبر کو پٹھان کوٹ اور سات ستمبر کلائکندا میں بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ بھارت نے اس جنگ کے دوران اپنے 28 اسکواڈرن میں سے 13 اسکواڈرن چینی خطرے کے پیش نظر مشرقی اور وسطی سیکٹر پر تعینات کیے۔جنگ کے دوران بھارت کے 460 طیاروں میں سے 59 اور پاکستان کے 186 میں سے 43 طیارے تباہ ہوئے۔1965 کی جنگ میں لگ بھگ 600 ٹینکوں نے حصہ لیا تھا۔ جس میں بھارت کے سنچورین ٹینک بھی شامل تھے۔ عددی برتری کے لحاظ سے بھارت کے پاس بہت اسلحہ تھا اور ان ٹینکوں کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کے عظیم سپاہیوں نے مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے اپنے سینوں پر بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر انہیں تباہ کرکے ناکارہ بنادیا۔ بھارت میں چاونڈا کا مقام اب بھی ٹینکوں کے قبرستان کے نام سے مشہور ہے کیونکہ پاکستانی سپاہی نے بھارتی صفوں میں گھس کر ان کی سفلی تدابیر کو ناکام بنایا تھا۔ دوسری جانب میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے اسی طرح کے معرکے میں شجاعت اور عظمت کی نئی داستان رقم کی تھی ،میجر راجہ عزیز بھٹی اس جنگ کے واحد سپاہی ہیں جنہیں نشان حیدر سے نوازہ گیا تھا۔
 
اس کے علاوہ 1965 کی جنگ میں ہزاروں ایسے عظیم سپاہی ہیں جنہوں نے پاکستان کی فتح میں اہم کردار ادا کیا جن میں ایم ایم عالم جو کی اس جنگ کے غازی بھی تھے اور جن کے کارنامے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور چند ہی منٹوں میں ہندوستانی طیارے گرانے کا عالمی ریکارڈ بھی رکھتے ہیں، انکے علاوہ کمانڈر محمد شیراز، یونس حسن خان,سرفراز احمد رفیقی،ایر مارشل ملک نور خان، و دیگر اس جنگ کے ھیروز ہیں،جن پر پاکستانی قوم آج بھی فخر کرتی ہے،اور انہی سپاہیوں کی بہادری اور دلیری کی وجہ سے ہر سال 6 ستمبر کو یوم دفاع پاکستان منایا جاتا ہے.
 
اس معرکے کے دوران پاکستانی قوم کا جذبہ حب الوطنی دیدنی تھا جب خون کے عطیات کی اپیل کی گئی تو ایک شہر اُمڈ آیا اور سب کی خواہش تھی کہ فوجیوں کو اسی کا خون لگایا جائے۔ خون کی اشد ضرورت تھی کیونکہ گہرے زخم اہم رگوں کو مجروح کررہے تھے اور زخمیوں کی لگاتار آمد سے اسپتال کا پورا فرش لہو کی سرخ چادر میں چُھپ گیا تھا۔ ۔
 
بھارت آج بھی اپنی شکست ماننے کو تیار نہیں جبکہ اس وقت کے بین الاقوامی جریدے "دی آسٹریلین" کے مطابق یہ جنگ ،جنگ عظیم دوم کے بعد سب سے بڑی جنگ تھی جس میں ٹینکوں کا استعمال سب سے زیادہ کیا گیا۔ دی آسٹریلین نے اپنے 14 ستمبر 1965 کے اخبار میں پاکستان کی فتح کا اعتراف کیا.

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment