منگل, 22 اکتوبر 2019


جنرل اسمبلی مں وزیراعظم عمران خان کی دھواں دھار تقریر

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس سے وزیر اعظم پاکستان نے تقریبا50 منٹ طویل خطاب کیا .وزیر اعظم عمران خان کی تقریر 4 اہم باتوں پر مشتمل تھی جن میں موسمیاتی تبدیلی،کرپشن اور منی لانڈرنگ،اسلامو فوبیا اور سب سے اہم بات مسئلہ کشمیرتھا.
 
|پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی کی زد میں ہیں|
 
عمران خان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی کی زد میں ہیں اور کوئی ایک ملک اکیلا اس سلسلے میں خاطر خواہ اقدامات نہیں کرسکتا اس کے لیے تمام ممالک کو کردار ادا کرنا ہوگا انہوں نے مزید کہا کے مجھے یقین ہے کہن اقوام متحدہ اس سلسلے میں قائدانہ کردار ادا کرے گا.
 
|ہر سال اربوں روپےغریب ممالک سے امیر ممالک میں منتقل کیئے جاتے ہیں، عمران خان|
 
عمران خان نے منی لانڈرنگ کے حوالے سے کہا کہ ہر سال اربوں روپےغریب ممالک سے امیر ممالک میں منتقل کیئے جاتے ہیں اور مغربی ممالک میں ان رقوم سے جائیدادیں خریدی جاتی ہیں،اور اسی وجہ سے غریب ممالک قرضوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں،اور یہی غربت کی وجہ ہے.لہذا امیر ممالک کو چایئے کہ وہ ایسے اقدامات کریں کہ کرپٹ حکمرانوں کے لیئے یہ ممکن ہی نہ رہے کہ وہ اپنے ملک کا پیسہ چوری کرکے بیرون ملک جائیداد منتقل کرسکیں.
 
|اسلامو فوبیا کی وجہ سہ ہم ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں, وزیراعظم|
 
اسلامو فوبیا کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا میں 1 ارب 30 کروڑ مسلم آباد ہیں اور 911 کے بعد سے اسلامو فوبیا میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا.انسانی برادریاں ایک ساتھ رہا کرتی ہیں ان کو ایک دوسرے کو سمجھنا چاہیے لیکن اسلامو فوبیا کی وجہ سہ ہم ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں.اگر مسلمان خواتیں حجاب پہنتی ہیں تو اس کو مسئلہ بنا دیا گیا ہے،حجاب کی حیثیت کیا ایک ہتھیار کی سی ہے؟اسلاموبیا کا آغاز تب سے ہوا جب کچھ مغربی لیڈروں نے دہشتگردی کو اسلام سے جوڑا۔عمران خان نے مزید کہا کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب دہشتگردی کی اجازت نہیں دیتا.یورپی ممالک میں مسلمانوں کو کمزور کیا جارہا ہے.
 
 
|بھارت نے اقوام متحدہ کی گیارہ قراردادوں کی خلاف ورزی کی، عمران خان|
 
کشمیر کے حوالے سے عمران خان نے کہا بھارت نے 80 لاکھ افراد کو یرغمال بنا رکھا اور ایک غیر انسانی کرفیو کا نفاذ کررکھا ہے.بھارت نے اقوام متحدہ کی گیارہ قراردادوں کی خلاف ورزی کی.انہوں نے شملہ معاہدے کی بھی خلاف ورزی کی اور ساتھ ہی ساتھ بھارتی حکومت نے بھارتی آئین کی بھی خلاف ورزی کی.آر ایس ایس ہٹلے سے متاثر ہے یہ نسلی امتیاز پر یقین رکھتے ہیں.آرایس ایس بھار میں مسلمانوں کی نسل کسی پر یقین رکھتی ہے ان کا اولین نقطہ نظر ہندوؤں کی بالا دستی اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیئے نفرت ہے.1948 میں مہاتما گاندھی کے قتل کیوجہ یہی نفرت پر مبنی نظریہ تھا.سن 2002 میں یہی منظم نظریہ تھا جب مودی نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جب وہ وزیر اعلیٰ تھے.کشمیریوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا ہے،13000افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے گذشتہ ایک سال میں ایک لاکھ کشمیری شہید ہوچکے ہیں کیونکہ ان کو وہ حق خودارادیت نہیں دیا گیا جو انہیں اقوام متحدہ نے انہیں دیا تھا.11000 خواتین کی عصمت گری کی گئی اس بارے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی دو رپورٹیں موجود ہیں.اس حوالے سے دنیا نے کچھ نہیں کیا کیونکہ بھارت 1 ارب 20 کروڑ افراد کی مارکیٹ ہے،افسوس ہے کہ مادیت کو انسانیت پر برتری دی گئی ہے اسکے سنگین نتائج ہوں گے.
 
|پاکستان کا ایجنڈا امن ہے،عمران خان|
 
عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا ایجنڈا امن ہے، انہوں نے کہا کہ جب وہ اقتدار میں آئے تھے تو ان کا ایجنڈا امن تھا اور اپنے پڑوسیوں ایران اور افغانستان کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنا شروع کیے اور اسی جذبے سے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف بھی ہاتھ بڑھایا۔عمران خان نے کہا انڈیا کی طرف سے مثبت جواب نہیں ملا اور انھوں نے ہم پر الزام لگائے اور میں نے جواب میں انھیں بلوچستان میں انڈیا کی کارروائیوں کے بارے میں بتایا۔انھوں نے کہا انڈیا کو کہا گیا کہ یہ سب بھول کر آگے بڑھتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس کی وجہ ان کے بقول، شاید انتخابات کا ماحول تھا لیکن انتخابات کے دوران اور بعد میں بھی پاکستان مخالف جذبات کا اظہار ہوتا رہا۔انھوں نے کہا کہ جب ایٹمی طاقتوں کے آمنے سامنے آنے کا امکان ہو تو اقوام متحدہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مداخلت کرے۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان تو خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور 70 ہزار جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔ انھوں نے کہا ان کی حکومت نے تمام ایسے گروپس کو ختم کیا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment