جمعرات, 14 نومبر 2019


یورپ کے یخ بستہ موسم میں پناہ گزین مشکلات سے دوچار

ایمز ٹی وی (اسپیشل رپورٹ) بلقان کے پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ علاقے میں درجۂ حرارت کے نقطۂ انجماد سے نیچے گرنے کے بعد وہاں بیمار ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ علاقے میں درجۂ حرارت منفی 11 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے۔

طبی فلاحی اداروں انٹرنیشنل میڈیکل کور (آئی ایم سی) اور میڈیسنز سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف)کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریض سانس کی تکالیف کا شکار ہیں جن میں فلو اور حلق کی سوجن جیسی بیماریاں شامل ہیں۔ ان اداروں کو ان مریضوں کی بھی فکر ہے جو یا تو ڈاکٹروں کے پاس جانے سے انکار کر رہے ہیں یا پھر طبی عملے تک پہنچ ہی نہیں پا رہے۔

ان افراد کو سربیا کی سرحد پر مقدونیہ کے جنوب اور کروشیا کے شمال میں واقع مرکزی پناہ گزینوں کے کیمپ میں طبی امداد کے ساتھ گرم کپڑے اور غذا بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ انٹرنیشنل میڈیکل کور شمالی سربیا کے علاقے سڈ کے ریلوے سٹیشن پر ایک عارضی کلینک چلاتی ہے۔

آئی ایم سی کی ٹیم کے سربراہ سنجا جوریکا کا کہنا ہے ’گذشتہ ہفتے جب درجۂ حرارت تھوڑا کم ہوا تو ہم روزانہ 50 سے 60 مریض دیکھ رہے تھے لیکن اس ہفتے درجۂ حرارت کے مزید گرنے کے بعد اب روزانہ تقریباً 100 مریض ہمارے پاس آ رہے ہیں۔ تمام مریض سردی کی وجہ سے سانس کی تکالیف کا شکار ہیں۔‘

متاثریں میں شام کا ال ماری خاندان جو شدید برفباری میں بھی اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ تین ہفتے قبل شام سے فرار ہونے کے بعد مستقل سفر میں ہیں۔ ان کے ساتھ چار بچے بھی ہیں جن میں سب سے چھوٹے بچے کی عمر صرف دو سال ہے۔ اس کا بھائی محمد جس کی عمر سات سال ہے، چھاتی کی تکلیف اور بخار کا شکار ہے۔

محمد کے چچا الیاد ال ماری کا کہناہے کہ ’ہم موت کے سفر پر ہیں۔‘

’ہم تو یہ سب برداشت کر سکتے ہیں لیکن میں بچوں کے بارے میں فکر مند ہوں جن کے لیے اس سردی، بیماری اور بھوک کو برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔‘

محمد کی بیماری اتنی خطرناک نہیں ہے۔ الیاد نے بتایا کہ ان کا خاندان جرمنی کی جانب سفر جاری رکھےگا جہاں بچوں کے والد ان کا انتظار کر رہے ہیں۔

سربیا میں ایم ایس ایف سے تعلق رکھنے والی ٹونا ترکمان نے بتایا ’ابتدائی طبی امداد کے بعد کچھ لوگ مزید علاج کروانے سے انکار کر دیتے ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا ’حتیٰ کہ جب انھیں ہسپتال میں داخل ہونے کا کہا جاتا ہے تو وہ انکار کر دیتے ہیں۔ وہ صرف اپنا سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ ان کو خوف ہوتا ہے کہ کہیں سرحدوں کو اچانک بند کرنے کی صورت میں وہ بیچ راستے میں نہ پھنس جائیں۔‘

محمد کی والدہ مالک نے آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے کہا ’ہم ایسا کرنا نہیں چاہتے تھے، ہم صرف یہ چاہتے تھے کہ شام میں جنگ ختم ہو جائے۔‘ مالک کے چہرے پر تناؤ اور پریشانی نمایاں تھی۔ وہ صدمے اور مایوسی کا شکار تھیں۔

ڈاکٹروں نےان پناہ گزینوں پر دوران سفر گزرنے والے حالات و واقعات کے باعث پڑنے والے نفسیاتی اثرات کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا۔ آئی ایم سی کے پاس نفسیاتی امراض کے چند معالج بھی ہیں۔اگرچہ مریض کلینک میں کچھ گھنٹوں کے لیے آتے ہیں لیکن ڈاکٹروں اور امدای کارکنوں کو ان مریضوں کو فوری ’نفسیاتی امداد دینے‘ کا کچھ وقت مل ہی جاتا ہے۔

سنجا جوریکا کا کہنا تھا ’یہ مدد ان مریضوں کو جذباتی سکون دینا اور ان کی کہانیوں کو سننے کے بعد ان کو اس نفسیاتی دباؤ سے نمٹنے کے لیے مشورہ دینا ہے۔‘ ’وہ شکر گزار ہیں کہ کوئی ان کے دکھوں کی داستان سننے والا بھی ہے۔‘

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment