بدھ, 23 مئی 2018


حکومت سندھ تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں کررہی ہے

 

ایمزٹی وی(تعلیم/ کراچی)سندھ یونیورسٹی میں منعقدہ ہونے والی کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد الی شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں کررہی ہے اور صوبے کے مختلف مقامات پر اسکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیزکے کیمپس کے لیے انفرااسٹرکچر بھی تعمیر کیا جارہا ہے تاکہ ہم اپنی نوجوان نسل کو معیاری تعلیم فراہم کرسکیں جوکہ ہمارے مستقبل کے معمار ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم پرائمری ایجوکیشن پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو بہتر سے بہتر تعلیم فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں تاکہ وہ مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاکرملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کا حق ہے کہ انہیں بہتر تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف سندھ یونیورسٹی بلکہ صوبے کی دیگر یونیورسٹیز کو بھی محدود وسائل میں رہتے ہوئے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جامشورو سے سہون تک سڑک کو دو رویہ کرنے کاکام شروع کردیا گیا ہے جس سے دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ سندھ یونیورسٹی‘ لمس اور مہران یونیورسٹی کے طالبعلموں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سندھ یونیورسٹی کو درپیش بسوں کی کمی کے مسئلے پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
کانووکیشن سے سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹرفتح محمد بروفت نے اپنے صدارتی خطاب میں سندھ یونیورسٹی کی مختلف شعبوں میں کارکردگی اور دیگرامورسے متعلق تفصیلی روشنی ڈالی۔
قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ نے 53 طالبعلموں کو پی ایچ ڈی ڈگریزاور 63 طالبعلموں کو ایم فل کی ڈگریز دینے سمیت کل 750 طالبعلموں میں ماسٹرز اور بیچلرز کی ڈگریاں دیں‘ اس کے علاوہ پوزیشن ہولڈرز کوگولڈ اور سلور میڈلز بھی پہنائے۔ اس موقع پر ایم این اے ملک اسد سکندر اور وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر سکندر شورو بھی موجود تھے۔ بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ حلقہ بندیوں کا کام الیکشن کمیشن کا ہے مگر ملک کے ایک علاقے میں 11 لاکھ ووٹرز پر ایک ایم این اے کی نشست ہے جبکہ دوسرے علاقے میں 4 لاکھ کے قریب ووٹرز پر ایک نشست ہے‘ اس فرق کو ختم ہونا چاہیے۔
دہشت گرد عناصرکی جانب سے یونیورسٹیزکے طالبعلموں کوانتہا پسندی کی ترغیب دیئے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس ضمن میں یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کے ساتھ متعلقہ حکام نے اجلاس منعقد کیے ہیں اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت ان معاملات کی نگرانی کی جارہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سینیٹ چیئرمین کی نامزدگی سے متعلق پارٹی کی اعلیٰ قیادت مشاورت کے ساتھ حتمی فیصلہ کرے گی۔
​​

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment