منگل, 18 ستمبر 2018


نئے تعلیمی سال کاآغاز، درسی کتابیں کم پڑگئیں

 

ایمزٹی وی(کراچی/تعلیم)سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ میں بار بار چیئرمین کی تبدیلی اور موثر پالیسی اختیار نہ کیے جانے کے باعث ایک طرف تو سرکاری اسکولوں کی پہلی تا میٹرک طلبہ میں مفت درسی کتب کی چھپائی مکمل نہیں ہو سکی ہے جبکہ دوسری طرف نجی اسکولوں کے طلبہ کیلیے بازار میں درسی کتب بھی موجود نہیں ہیں نیا تعلیمی سال کا آغاز یکم اپریل سے ہوتا ہے اس لیے اس بات کا قومی امکان ہے کہ سرکاری اور نجی اسکولوں کے طلبہ یکم اپریل کو شروع ہونے والے نئے تعلیم سال کے آغاز پر بغیر کتابوں کے اسکول جائیں .
اردو بازار ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر نسیم احمد نے کہا کہ اس وقت اردو بازار میں نئے سال کی کوئی درسی کتاب بازار میں موجود نہیں ہے، والدین اور طلبہ کتابوں کے حصول کے لیے چکر لگا رہے ہیں لیکن انہیں نئے سال کی کتاب بازار میں نہیں مل رہی ہے اور ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک کی نئے ایڈیشن کی کوئی کتاب بازار میںنہیں ہے اُدھر ایک ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر نے جنگ کو بتایا کہ ابھی تک سرکاری اسکولوں میں کتابوں کی فراہمی مکمل نہیں ہو

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment