اتوار, 15 ستمبر 2019


سندھ ایچ ای سی کومحکمہ بورڈزوجامعات سےالگ کرنےکافیصلہ

 سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا ہے کہ وہ سندھ ایچ ای سی کو محکمہ بورڈز و جامعات سے الگ کر رہے ہیں۔ذرائع کےمطابق  ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ سندھ ایچ ای سی اور محکمہ بورڈز و جامعات کو اکٹھا کرنے سے صورتحال بہتر ہونے کی بجائے خراب ہوئی چنانچہ اب جب محکمہ بورڈز و جامعات میں نثار کھوڑو کا بطور مشیر تقرر کردیا گیا ہے تو ایچ ای سی کا بالکل جدا ہونا ناگزیر ہوگیا کیوں کہ ایک سیکرٹری دو سربراہوں کو کیسے جوابدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ایچ ای سی کو الگ کرنے اور وہاں نیا سیکرٹری تعینات کرنے کے معاملات کو فائنل کرنے کیلئے دو روز بعد وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کروں گا۔

 

یاد رہے کہ سیکرٹری بورڈز و جامعات کے پاس سیکرٹری ایچ ای سی کا بھی اضافی چارج ہوتا ہے اس مد میں اسے گاڑی، پیٹرول کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ اضافی الاونس الگ ملتا ہے گزشتہ سال ریاض الدین کو سیکرٹری بورڈ و جامعات و سیکرٹری سندھ ایچ ای سی مقرر کیا گیا تھا تاہم ان کے دور میں نہ سندھ ایچ ای سی فعالہوسکا نہ ہی وقت پر ناظم امتحانات، چیئرمین بورڈز، ڈائریکٹر فنانس اور وائس چانسلرز کی تقرری کی جاسکی۔ سیکرٹری بورڈز و جامعات کا دفتر بھی سندھ ایچ ای سی کی عمارت میں قائم ہے۔ جو کرائے پر ہے اور اس کے لئے سندھ ایچ ای سی لاکھوں روپے ماہانہ خرچ کرتا ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment