اتوار, 15 ستمبر 2019


ریجنل ڈائریکٹرکالجزکی خالی اسامیوں کی وجہ سےصورتحال انتہائی خراب

کراچی: محکمہ کالج ایجوکیشن میں گزشتہ کئی ماہ سے گریڈ 20؍ کی ڈی جی کالجز اور 4؍ ریجنل ڈائریکٹر کالجز کی خالی اسامیوں کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ افسران کی عدم دستیابی کے باعث گلشن ڈگری کالج اور اسٹیڈیم روڈ کالج میں میرٹ سے ہٹ کر سیکڑوں داخلے کم نمبروں پر دے دیئے گئے ایسی صورتحال میں جب ان اہم اسامیوں پر تقرری ناگزیر تھی محکمہ کالج ایجوکیشن نے چیف سیکرٹری ممتاز شاہ کے بیرون ملک اور وزیر تعلیم کے نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گورنمنٹ گرلز کالج زم زمہ (گزری) کی پرنسپل ایسوسی ایٹ پروفیسر رفعت کا تبادلہ کرکے گورنمنٹ ڈگری سائنس آرٹس اینڈ کامرس کالج ہجرت کالونی کا پرنسپل مقررکردیاہے جو غیر فعال کالج ہے اس زیر تعمیر کالج کا قبضہ تا حال ٹھکیدار کے پاس ہے۔ کالج میں نہ فرنیچر ہے نہ بجلی نہ پانی ۔قاعدے کے مطابق بہترین نتائج کے لئے عہدے پر تین سال کیلئے تقرری کی جاتی ہے مگر ایسوسی ایٹ پروفیسر رفعت کو ایک سال کے اندر ہی رخصت کردیا گیا جبکہ ہجرت کالونی کی پرنسپل شاہین جونیجو جو گزشتہ کئی ماہ سے گزری کالج آنے کیلئے بیتاب تھیں انہیں گزری کالج کا پرنسپل مقرر کردیا ہے۔ حالانکہ ان کی ریٹائرمنٹ میں چند ماہ باقی ہیں مگر وہ اچھے کالج سے ریٹائرڈ ہونے کیلئے

  گزشتہ کئی ماہ سے زم زمہ کالج آنے کی کوششیں کررہی تھیں۔ وہ ایک ریٹائرڈ سیکرٹری شجاع جونیجو کی اہلیہ بتائی جاتی ہے جبکہ زم زمہ کالج میں اس وقت 6؍ خواتین اساتذہ ان سے سینئر ہیں۔ محکمہ کالج ایجوکیشن کے ذرائع نے بتایا کہ شاہین جونیجو کا تبادلہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر کیا گیا تاہم وزیر اعلیٰ ہاؤس کے ذرائع نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ اس طرح کی خلاف میرٹ سفارشی ہدایت نہیں دیتے۔ جنگ نے جب سیکرٹری کالج ایجوکیشن رفیق احمد برڑو سے شاہین جونیجو کو گزری کالج کا پرنسپل مقرر کرنے کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ان کو پرنسپل لگانے کی سمری میری آمد سے پہلے تیار کی جاچکی تھی اس تبادلے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ سندھ میں ڈی جی کالجز اور ریجنل ڈائریکٹرز میرٹ پر لگائے جائیں گے اس کیلئے ہر ریجن میں سنیارٹی کی بنیاد پر تین پروفیسرز کا انٹرویو ہوگا اور جو انٹرویو میں کامیاب ہوگا اس کا تقرر کردیا جائے گا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment