جمعرات, 14 نومبر 2019


حبیب یونیورسٹی کراچی میں پائیکون پاکستان کے تحت عالمی کانفرنس

 
 
کراچی: ہم گلوبل ویلیج میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہرگزرتے دن کے ساتھ انقلابات جنم لیتے ہیں اورپائیتھون لینگویج اورآرٹیفیشل انٹیلیجنس بھی انقلابات کی تشکیل کی تیاری ہیں۔
 
کراچی کی حبیب یونیورسٹی میں پائیکون پاکستان کے تحت عالمی کانفرنس ہوئی۔
 
کانفرنس میں پائیتھون سافٹ ویئر فاونڈیشن کے ڈائریکٹر وین لینڈبرگ شرکاء کو پائیتھون لینگویج اور اس کے مستقبل کے حوالے سے آگاہ کیا۔
 
 
انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرونکس انجینئرنگ اسپیکٹرم میگزین کے مطابق پائیتھون دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی زبان ہے۔
 
کانفرنس کے مقررین کے مطابق 2020 تک ڈیٹا سائنٹسٹس کی طلب میں 28 فیصد تک اضافہ ہوگا لیکن ڈیٹا سائنس صرف اس سطح کی جانچ کررہاہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر شعبوں کے لئے فطری مناسبت کے ساتھ پائیتھون کیا کرسکتا ہے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی ٹیک انڈسٹری فرسودہ ٹیکنالوجیز پر انحصارکرنے کے بجائے علم اور ترقی کی اس دوڑمیں سب سے آگے رہے۔
 
منتظمین کا کہنا تھا کہ پائیتھون سے نا صرف روزگارکے مواقع پیدا ہونگے بلکہ پاکستان مستقبل کے چیلنجز سے بھی نبرد آزم اہوسکے گا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment