جمعہ, 13 دسمبر 2019


جامعہ کراچی کےنوجوانوں کی نئی ایجادات

کراچی: جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ٹیم نے ایسا پلاسٹک تیار کیا ہے جو پانی میں گھل جاتا ہے، شعبہ کمپیوٹر سائنس جامعہ کراچی نے ایک ایسی مشین تیار کی جس کے ذریعے ہوا سے پانی بنایا جاسکتا ہے۔
 
شعبہ نباتیات کی ٹیم نے کریلے کے چھلکوں سے پودوں کی کیڑے ماردوا تیار کی ہے جو کیمیکل فری ہے اور سمندری کائی سے ایک ایسی کریم تیار کی ہے جس کے استعمال سے مچھروں سے بچا جا سکتا ہے اور یہ کریم نومولود بچوں پر بھی لگائی جا سکتی ہے کیونکہ ا س میں کسی قسم کا کیمیکل استعمال نہیں کیا گیا۔
 
انسٹی ٹیوٹ آف میرین سائنس جامعہ کراچی نے مچھلی کی جلد سے ایسی بینڈیج تیارکی ہے جس کے ذریعے نہ صرف جلی ہوئی جلد کا زخم بھرجاتاہے بلکہ زخم کا نشان بھی مٹ جاتا ہے اور مچھلی کی ایک قسم Squid کی سیاہی سے ایک ایسا ہیئر کلر تیار کیا ہے جوکیمیکل فری ہے اور اس کو لگانے سے بالوں یا جلد کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچتا، اپلائیڈ کیمسٹری کی ٹیم نے فیبرک کے کلر کو تبدیل کرنے کے لے ایک ایسی مشین تیار کی ہے جس کے ذریعے بہت کم قیمت پر یہ کام انجام دیا سکتا ہے۔
 
اپلائیڈ فزکس کی ٹیم نے ایسی ڈیوائس (Braille ) تیار کی ہے جس کے ذریعے نابینا افراد اپنی بات کسی بھی مقام پر موجود کسی دوسرے فرد کو بتا سکتے ہیں کسی میسجنگ سروس کی طرح، ان پروجیکٹس کی بنیاد پر شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے پہلی،کمپیوٹر سائنس نے دوسری،شعبہ نباتیات نے تیسری، اپلائیڈ کیمسٹری نے چوتھی، انسٹی ٹیوٹ آف میرین سائنس نے پانچویں ،اپلائیڈ فزکس نے چھٹی، ایگریکلچر اینڈ ایگری بزنس مینجمنٹ نے ساتویں جبکہ انٹرنیشنل سینٹر فارکیمیکل اینڈ بائیولوجیکل ریسرچ سینٹر (آئی سی سی بی ایس) نے آٹھویں پوزیشن حاصل کی۔
 
ایف پی سی سی آئی کے کنوینر وقاص عظیم، منیجر نیشنل انکیوبیشن سینٹر اصغر حسین اور انجینئر عدیل نے ججز کے فرائض انجام دیے۔
 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment