بدھ, 29 جنوری 2020


جامعہ کامسیٹس کےتمام کیمپسزمیں احتجاجی مظاہروں اورریلیوں کااعلان

کراچی: کامسیٹس اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے مورخہ 9 اور 10 دسمبر کو احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا فیصلہ کیا ہے۔  اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے موجودہ انتظامیہ کے رویے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کامسیٹس کی انتظامیہ  اساتذہ  و ملازمین کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔

 جون 2019 میں اساتذہ کی قلم چھوڑ ہڑتال کی بدولت ریکٹر کامسیٹس اور ایسوسی ایشن کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا اور ایسوسی ایشن کے خیال میں معاہدے کی ناکامی کی وجہ اینٹرم انتظامیہ ہے۔ ان افسران کی  نااہلی کی  بنا پر کامسیٹس یونیورسٹی  جمود کا شکار ہے اور تمام کام رکے ہوئے ہیں۔

 یونیورسٹی کے تمام فورمز فنکشنل نہ ہونے کے باعث موجودہ اینٹرم انتظامیہ صرف اور صرف اپنے سطحی مفادات کی خاطر تمام ضروری کاموں میں روڑے اٹکارہی ہے۔ مثلا سینٹ کی دوسری میٹنگ کے منٹس کا اپروول ہو یا سلیکشن بورڈ کا انعقاد ، ایڈ ہاک الاؤنسز کا بنیادی تنخواہ میں ضم ہونا ہو یا اساتذہ کے تمام اسکیلز کے لیے اشتہار ، مستقل ریکٹر کی تعیناتی ہو یا مسائل کے حل کے لیے  مختلف کمپنیوں کی تشکیل غرض یہ کہ تمام معاملات میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے ہیں۔ فرانزک آڈٹ جیسے انتہائی اہم مطالبے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا  لیکن اس پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

ایسوسی ایشن  اس تمام صورتحال کے بعد  اربابِ اختیار بشمول ایوانِ صدر، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی ، سینٹ  اور قومی اسمبلی کے اراکین اور کامسیٹس کے سینٹ ممبران سے میڈیا کے توسط سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ایسے تمام افسران کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے جو ایک تحریری معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

مورخہ 10 دسمبر 2019 کو ایک جانب کامسیٹس اپنی سلور جوبلی ایوانِ صدر میں منانے جارہا ہے۔ اور دوسری جانب کامسیٹس یونیورسٹی کے ملازمین  اپنے مسائل حل نہ ہونے کے باعث ایک مستقل اذیت کا شکار ہیں۔ اس غیر معمولی صورتحال کے تناظر میں ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام کیمپسز میں 9 اور 10 دسمبر کو پُر امن مظاہرے کیے جائیں گے تا کہ ایوانِ صدر سمیت دیگر اربابِ اختیار کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ کامسیٹس کے اساتذہ و ملازمین اس نام نہاد جشن میں انتظامیہ کے ساتھ نہیں ہیں۔

 اس سلسلے میں 13 دسمبر 2019 کو مستقبل کی حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے کامسیٹس کی سینٹرل  ایسوسی ایشن  کا اجلاس بلالیا گیا ہے ۔ اے ایس اے – سی یو آئی جامعہ  کامسیٹس کے چانسلر صدرِ پاکستان عزت مآب جناب عارف علوی صاحب اور جامعہ کے پرو چانسلر وزیرِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جناب فواد چوہدری صاحب سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور کامسیٹس کے اساتذہ  و ملازمین کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے  لیے اپنا کردار ادا کریں۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment