اتوار, 05 اپریل 2020


اقرایونیورسٹی کےزیراہتمام قومی سمپوزیم کاانعقاد

کراچی: اقرا یونیورسٹی کے زیر اہتمام قومی سمپوزیم کاانعقادکیاگیا۔
اس موقع پر وائس چانسلر اقراء یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے کہا کہ پاکستان میں 70سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں جو پاکستان کے ایک متنوع سماج ہونے کی نشانی ہے ۔ پاکستان کی ثقافتی اور لسانی تاریخ بیحد پرانی اور منفرد حیثیت کی حامل ہے ۔ انگریزی زبان دنیا بھر میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔
 
انگریزی زبان کےحوالےسےان کا کہناتھا کہ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں 2 ارب افراد انگریزی بولتے ہیں جس میں سے محض 34 کروڑ افراد کی مادری زبان انگریزی ہے جس سے
انگریزی کی بین الاقوامی افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے
 
اس موقع پر اقرا یونیورسٹی کی ڈائریکٹر کریکلم اینڈ پروفیشنل ڈیولپمنٹ ڈاکٹر فاطمہ ڈار نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں امیر طبقےسے تعلق رکھنے والے والدین اور اساتذہ بچوں میں اردو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔مقامی زبانیں اپنا مقام کھوتی جارہی ہیں ، چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں میں ہجرت کرنے والے افراد کے بچے بھی اپنی مادری زبان سے رشتہ کھو بیٹھے ہیں۔
 
وائس چانسلر نےسمپوزیم کے کامیاب انعقاد پر ڈاکٹر فاطمہ ڈار اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا جبکہ دو روزہ سمپوزیم میں ملک بھر سے آئے اسکالرز نے اپنے مقالے پیش کئے
 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment