ھفتہ, 04 جولائی 2020


کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ سےایڈہاک ازم کا فوری خاتمہ کیاجائے

کراچی: سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسو سی ایشن کے مرکزی صدرپروفیسر سید علی مرتضیٰ، کراچی ریجن کے صدر پروفیسر منور عباس،پروفیسر امیر علی لاشاری، پروفیسر لیاقت بھٹو، پروفیسرنازیہ سولنگی، پروفیسرعبدالمنان بروہی پروفیسر سعید فاطمہ، پروفیسرآصف منیر، پروفیسر محمد عدیل، پروفیسرحسن میر بحر، پروفیسر عزیزمیمن، پروفیسر عبدالمجید ٹانوری، پروفیسر محمد عامر الحق، پروفیسر صفدر رضا، پروفیسرعبدالرشید ٹالانی، پروفیسر سید عامر علی، سینئر لائبریرین واجد علی چانڈیو، پروفیسرپرکاش، و دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں وزیرِ تعلیم سعید غنی اور سیکریٹری کالج ایجوکیشن باقر عباس نقوی سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ سے ایڈہاک ازم کا فوری خاتمہ کیا جائے جس کے لیے فوری طور پر بغیر کسی سفارش کے میرٹ پر قابل اور ایماندار ڈائریکٹر جنرل کراچی ریجن سے تعینات کیا جائے جو اپنے آفس کو مستقل بنیادوں پر وقت دے سکے۔
 
غیر مستقل ڈی جی کے سبب بہت سے معاملات نہ صرف التویٰ کا شکار ہیں جبکہ ڈی جی آفس میں اس وقت صورتحال انتہائی گمبھیر بن چکی ہے، آئے روز کسی نہ کسی افسر پر بے بنیاد الزمات لگاکر اسے عہدے سے فارغ کر دیا جاتا ہے جس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
 
سپلا کے رہنماؤں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ پہلے ایماندار افسر ڈائریکٹر فناس پروفیسر صالح عباس پر الزمات لگاکر فارغ کر دیا گیا اور اب ایک اور ایماندار اور قابل افسر ڈائریکٹر ایچ آر پروفیسر بسمہ شاہ کو بے بنیاد الزمات کی بھینٹ چڑھانے کی تیاری کی جا چکی ہے جو کہ کسی بھی طورقابلِ قبول نہیں ہے۔
 
سپلا کے رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ کراچی کے کئی ایک کالجز میں مستقل پرنسپل تعینات نہ ہونے کے سبب شہر بھر کی مختلف کالجزسے امتحانات سمیت دیگر معاملات کی مد میں طلبا و طالبات سے پیسے وصول کرنے کی شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں جبکہ بعض کالجز میں انیس گریڈ کے اساتذہ کو نظر انداز کر کے اٹھارہ گریڈ کے اساتذہ کو انچارج پرنسپل لگایا گیا ہے جو کہ انتہائی نامناسب عمل ہے اس لیے وزیرِ تعلیم اور سیکریٹری کالج ایجوکیشن اس جانب طوجہ دیتے ہوئے کالجز میں مستقل پرنسپلز تعینات کیے جائیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment