جمعرات, 03 دسمبر 2020


سرسیداحمدخان کا203واں یوم پیدائش روایتی جوش و جذبہ کےساتھ منایا گیا

کراچی: علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے زیراہتمام سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے برصغیر کے عظیم مفکر سرسید احمد خان کا203واں یوم پیدائش روایتی جوش و جذبہ کے ساتھ منایا گیا اور ممتاز دانشوروں نے سرسید احمد خان کی حیات و خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی سابق کمشنر شفیق پراچہ نے کہا کہ ماضی ایک منجمد حقیقت ہے، آپ اسے بدل نہیں سکتے ۔ ایک بیج میں پورا جنگل ہوتا ہے ۔ سر سید تو ایک علامت ہے تبدیلی و ترقی کی سرسید احمد خان سلطنتِ برطانیہ کے باغی تھے ۔ قیام پاکستان اور دو قومی نظریہ کا محور اردو زبان تھی ۔ سرسید کے تسلسل کا دوسرا نام اقبال ہے

اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈبوائز ایسوسی ایشن کے صدر اور سرسید یونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد بحثیت قوم، ہم نے سرسید احمد خان کے مشن کو تو پکڑے رکھا مگر اس کی آبیاری جس انداز میں ہونی چاہئے تھی ۔ بحثیت علمبردار، ہم نہیں کر پائے ۔ سرسید احمد خان نے برصغیر کے مسلمانوں کی بحیثیت ایک قوم پہچان کرائی اور انھیں ایک قوم کا تشخص دیا جس کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا ۔انھوں نے کہا کہ ملازمتوں کے مواقع محدود ہونے کے باعث آج نوجوانوں کو جبری کاروباری تنظیم کاری forced entrepreneurship کی طرف رجوع کرنا لازم ہوگیا ہے

چانسلر جاوید انوار نے شہیدملت لیاقت علی خان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی شہادت پر گہرے تاسف کا اظہا ر کیا ۔ اس موقع پر انھوں نے شہید حکیم محمد سعید کی خدمات کو بھی اجاگر کیا جنھوں نے سرسید یونیورسٹی کا چارٹر منظور کیاتھا ۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کو 16اکتوبر اور حکیم محمد سعید کو 17 اکتوبر کو شہید کیا گیا ۔اموبا کے صدر جاوید انوار نے سرسید یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید جاوید حسن رضوی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکیا ۔ممتاز اسکالر پروفیسررضوان صدیقی نے کہا کہ سرسید احمد خان برصغیر کے وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے جداگانہ قومیت کا نعرہ بلند کیا ۔ وہ جدیدیت کی اہمیت سے واقف تھے اور مسلم نشاط ثانیہ کے علمبردار بھی تھے ۔ وہ بلاشبہ برصغیر کے جملہ مسلمانوں کے محسن ہیں ۔

ڈاکٹر شاداب احسانی نے کہا کہ کائنات میں سارا جھگڑا غائب کا ہے، ظاہر کا کوئی جھگڑا نہیں ہے ۔ ہر عہد کسی نہ کسی نظریہ یا شخصیت کے زیرِ اثر ہوتا ہے ۔ زبان سے زیادہ بیانیہ اثر کرتا ہے ۔ سرسید احمد خان کا سب سے بڑا اہم کام ’’آثار الصنادید‘‘ ہے جو ہماری شناخت ہے ۔ سرسید احمد خان نے جدید سائنسی علوم سیکھنے کی ترغیب دی اور سائنس کی بنیاد مشاہدہ پر ہے

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری انجینئر محمد ارشد خان نے اظہارِ تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کے زینے چڑھنے کے لیے مضبوط قوت ارادی اور ثابت قدمی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سرسید احمد خان نے علیگڑھ مدرسے کی بنیاد رکھی جو درحقیقت قیامِ پاکستان کی بنیاد کی پہلی اینٹ تھی ۔ علیگ نے اپنے حصے کا کام کردیا اب المنائی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کام کو آگے بڑھائیں ۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ سال کے کیلنڈر میں سرسید ڈے بھی ہو کیونکہ پاکستا ن کے قیام کی بنیاد دوقومی نظریہ ہے جسے سب سے پہلے سرسید احمد خان نے پیش کیا تھا ۔اختتامِ تقریب پر سرسید یونیورسٹی کے طلباء و طالبات اور علیگ نے مل کر ترانہ علیگڑھ پیش کیا ۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment