جمعرات, 03 دسمبر 2020


انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ، معاشی ترقی کی کنجی ہے

کراچی: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مواصلات سید امین الحق نے سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا دورہ کیا اور دوطرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ کی ترقی کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینے پر غور کیا گیا۔

وفاقی وزیر سید امین الحق نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئےکہا کہ ہمارے نوجوانوں میں بڑا ٹیلنٹ اور پوٹینشل ہے مگرترقی کے سفر میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ان کو درست سمت میں رہنمائی کی ضرورت ہے۔قومی بجٹ میں تعلیم کی مد میں جی ڈی پی کا 3.1 فیصد مختص کیا گیا ہے۔ہم اسے کم سے کم 10فیصد تک لے جانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے انفارمیشن ایند کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی بڑی اہمیت ہے اور ہماری پوری توجہ پاکستان کی اقتصادی ترقی پر مرکوز ہے

سرسید یونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار نے کہا کہ حیلے بہانوں کا وقت گزر چکا۔اب کچھ کر دکھانے کا وقت ہے۔پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے درآمدات کو کم کرکے برآمدات کے حجم کو بڑھانا ہوگا تاکہ زرمبادلہ پاکستان میں آئے۔معیشت کے فروغ کے لے کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دینابہت ضروری ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ، معاشی ترقی کی کنجی ہے اورمعاشرے کے عروج و زوال میں تخلیقات و ایجادات کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ جامعہ کی توجہ ایجادات اور تخلیقات پر مرکوز ہے۔ہم پاکستان میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں جس کی بنیاد علم و فنون پر ہو۔سرسید یونیورسٹی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی جامعہ کے طور پرایک موثر کردار ادا کر رہی ہے اور اداروں کے ساتھ باہمی تعاون و اشتراک کے ذریعے سماجی و معاشی ترقی کے لیے جدید دور کے چیلنجز سے بخوبی بنرد آزما ہورہی ہے

اس موقع پرسرسید یونیورسٹی اور وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و مواصلات کے مابین ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کئے گئے۔سرسید یونیورسٹی کی طرف سے رجسٹرار سید سرفراز علی اور وزارت مواصلات کے طرف سے سید جنید امام نے دستخط کئے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment