ھفتہ, 28 نومبر 2020


کوڈڈمائنڈزنےپاکستان میں اپنےسفرکاآغازکردیا

عالمی تعلیمی و تکنیکی ادارے کوڈڈ مائنڈز نے پاکستان میں اپنے سفر کا آغاز کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق کوڈڈ مائنڈز کی جانب سے مقامی ہوٹل میں اگلی نسل کو ہنر مند بنانا، کارپوریٹ، پبلک اینڈ ڈویلپمنٹ سیکٹر کا کردار، کے موضوع پر مباحثے کا اہتمام کیا گیا۔ مباحثے کی میزبانی کوڈڈ مائنڈز گلوبل کے بانی صدر عمر فاروقی نے کی۔

دیگر مقررین میں ایم پی اے شرمیلا فاروقی، ایم پی اے ارسلان تاج، خالد انعم، شہباز اسلام، عتیق میر، عمران خان چشتی، سابق وزیراعلی بلوچستان نواب غوث بخش باروزئی، ڈاکٹر ارشد وہرہ، سید معاذ شاہ، شیما حیدر شامل تھے۔

ایونٹ کے موقع پر ہوپ روزگار بس کا بھی افتتاح کیا گیا۔ مباحثے کے دوران عمر فاروقی نے بتایا کہ پاکستان میں دو کروڑ 28 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں بچے اسکول سے باہر ہیں، ہم ان بچوں کو ہنر مندانہ تعلیم دیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر بچوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے آن لائن اور عملی تعلیم دیں گے، ہوپ روزگار بس بھی کوڈڈ مائنڈز کا اسی منصوبے کا حصہ ہے۔

عمر فاروقی نے بتایا کہ ہوپ روزگار بس کے ذریعے ملک بھر میں ہم تین لاکھ سے زائد ملازمتیں بھی فراہم کر رہے ہیں، ہم تین سال کے قلیل عرصے میں امریکہ و برطانیہ سمیت دنیا کے 14 ممالک میں کام کر رہے ہیں، پاکستان میں ہم نے اس سال کام شروع کیا ہے، ہمارا عزم دیگر تعلیمی اداروں سے مختلف ہے، تعلیم کے فروغ کے لیے کوڈڈ مائنڈز پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی خواہاں ہے۔

اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے رکن سندھ اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ہمیں تعلیم اور صحت میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے، ہم سکیورٹی اور انفرااسٹرکچر پر زیادہ خرچ کرتے ہیں، شرمیلا فاروقی نے کہا کہ اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے، دو کروڑ چھ لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم میں لڑکیوں کو بھی لڑکوں کے برابر مواقع فراہم کرنے ہوں گے، حکومت سندھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

پی ٹی آئی کے ایم پی اے ارسلان تاج نے کہا کہ ماضی کی کچھ غلطیوں کی وجہ سے پاکستان ہمسایہ ممالک سے بھی پیچھے ہے، ان کا کہنا تھا کہ پرائمری تعلیم کے لیے سندھ میں صرف 49 ہزار اسکولز، سیکنڈری کے لیے دوہزار ہیں، ہمارا ڈراپ آوٹ 69 لاکھ بنتا ہے، 40 لاکھ بچے چائلڈ لیبر پرمجبور ہیں، ارسلان تاج نے کہا کہ والدین پڑھانا بھی چاہیں تو اسکولز نہیں ملتے، طبقاتی نظام کے باعث ہمارے بچوں کے لیے مواقع محدود ہیں، معیاری تعلیم ایک مخصوص طبقے کے پاس ہے، ارسلان تاج نے کہا کہ ہر سال بجٹ اوپر لیکن تعلیمی معیار نیچے جارہا ہے، سوچنا ہو گا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment