اتوار, 15 دسمبر 2019


نامورافسانہ نگارمحمدحامدسراج انتقال کرگئے

مانیٹرنگ ڈیسک: نامور افسانہ نگار محمد حامد سراج طویل علالت کے بعد 61 سال کی عمر میں چل بسے۔وہ طویل عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے، ان کا انتقال پنجاب میں ان کے گاؤں خانٛقاه سِراجيہ میں ہوا اور وہیں ان کی تدفین بھی کی گئی۔
 
ان کے سوگوارن میں دو بیٹے، ایک بیٹی اور اہلیہ ہیں۔
 
محمد حامد سراج کی پیدائش میانوالی کے گاؤں خانٛقاه سِراجيہ میں 21 اکتوبر 1958 کو ہوئی تھی۔ان کا تعلق مذہبی گھرانے سے تھا، وہ معروف روحانی پیشوا احمد خان کے پوتے تھے۔
 
محمد حامد سراج چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ میں انجینیئر کی حیثیت ملازمت کررہے تھے، جس سے ایک سال قبل ہی ان کی رٹائرمنٹ ہوئی۔
 
ان کی چند بہترین کتابوں میں برائے فروخت، آشوب نگاہ، وقت کی فصیل، ہمارے بابا جی حضرت مولانا خواجہ خان محمد، عالمی سب رنگ افسانے اور نقش گار شامل ہیں۔
 
وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے محمد حامد سراج کے انتقال پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے اسے ملک کے ادبی حلقے کا بڑا نقصان قرار دیا۔انہوں نے مرحوم کی روح کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان والوں کے لیے بھی دعا کی۔
 
 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment