منگل, 18 ستمبر 2018


ایک لاکھ بچوں میں صرف تیس فیصد کو اسپتال جانے کی سہولت میسر

 

ایمزٹی وی(صحت) امراض قلب پرمنعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےمعروف ماہر امراض قلب پروفیسر ڈاکٹر نجمہ پٹیل نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ پچاس ہزار بچے دل کے امراض کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جبکہ پچاس ہزار بچوں کو پیدائش کے بعد دل کے امراض لاحق ہو جاتے ہیں ۔ ان ایک لاکھ بچوں میں سے صرف تیس فیصد کو اسپتال جانے کی سہولت میسر ہو پاتی ہے دیگر بچپن میں ہی بغیر بیماری کی تشخیص اور علاج کے انتقال کر جاتے ہیں ۔ان بچوں کے علاج کے لئے مرض کی تشخیص، ڈاکٹروں کی تربیت ، عوام میں آگہی اور علاج معالجے کی سہولیات بڑھانے کی شدید ضرورت ہے ۔
پروفیسر نجمہ پٹیل نے مذید کہا کہ ملک میں بچوں کے امراض کے علاج کا پہلا وارڈ قومی ادارہ برائے امراض قلب میں قائم ہوا جس کے بعد درجنوں ادارے بنے حال ہی میں حکومت سندھ کی مدد سے پورے سندھ میں قومی ادارہ برائے امراض قلب کے تحت مراکز قائم کر دیئے گئے ہیں لیکن تاحال بچوں کےعلاج کے لئے مذید کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ سیکریٹری صحت سندھ ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو نے کہا کہ سندھ کے اسپتالوں میں دی جانے والی سہولیات دن بدن بہتر ہو رہی ہیں تاہم اس میں مذید بہتری کی گنجائش ہے جس کے لئے کوشش کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وفاق سے اسپتال صوبوں کو منتقل کرنے سے اسپتالوں میں بہتری آئی ہے تاہم اٹھارویں ترمیم کے بعد ہمیں ان تین اسپتالوں کو10سے 12ملین روپے دینے پڑتے ہیں اگر اٹھارویں ترمیم این ایف سی ایوارڈ پہلے ہوجاتی تو بہترہوتا۔قومی ادارہ برائے امراض قلب کے ایگزیگیٹیو ڈائریکٹر پروفیسر ندیم قمر نے کہا کہ جب انہیں ڈائریکٹر بنایا گیا توان کے نزدیک سب سے اہم مسئلہ گاؤں کے بچوں کا علاج تھا کیونکہ دیہاتوں کے بچے علاج کے لئے شہر بہت مشکل سے آپاتے ہیں ۔
اس لئے انہوں نے اس طرف خصوصی توجہ دی اور سندھ کے پانچ اضلاع میں سیٹلائٹ سینٹر قائم کردیئے جن کی تعداد رواں سال جون تک آٹھ ہو جائے گی جس سے ملک بھر کے بچے مستفیض ہوسکیں گے ۔پروفیسر کلیم الدین عزیز نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر کا نظام گاؤں دیہاتوں میں بہتر بنایا جائے کیونکہ جو مریض بچے ڈسٹرکٹ اور ٹرشری کیئر اسپتال آجاتے ہیں ان کا علاج کر دیا جاتا ہے لیکن جو نہیں آپاتے ان کے علا ج کے لئے کوئی نظام موجود نہیں ۔واضح رہے کہ کانفرنس میں دنیا بھر سے ماہرین شرکت کر رہے ہیں جو جدید تحقیق سے پاکستانی ماہرین کو آگاہ کریں گے ۔
تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی سیکرٹری صحت ڈاکٹر فضل اللہ پیچوہو جبکہ مہمان اعزازی قومی ادارہ برائے امراض قلب کے ایگزیگٹیو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ندیم قمر تھے ۔ اس موقع پرپاکستان پیڈیاٹرک کارڈیالوجی سوسائٹی کے صدر پروفیسر کلیم الدین عزیز اورڈین آف چلڈرن اسپتال لاہور پروفیسر مسعود صادق ودیگر بھی موجو د تھے ۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment