بدھ, 13 نومبر 2019


کیلشیم کی کمی کوکیسے دور کیاجائے؟

انسانی جسم میں 206ہڈیاں ہوتی ہیں،ان میں سے ایک ہڈی بھی کمزور ہو جائے تو جسم کا بیلنس خرا ب ہو جاتاہے۔ ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کیلشیم ضروری ہے۔کیلشیم کی کمی سے کیا ہوتاہے․․․؟
 
کیلشیم کی کمی سے جسم میں ہڈیاں،جوڑ اور دانت متاثر ہوتے ہیں۔ہڈیوں کا چٹخنا،ہڈیوں وجوڑوں میں درد،ہاتھوں پیروں کا مڑ جانا یہ سب کیلشیم کی کمی کی علامات ہیں۔
 
آج کل جدید طرز زندگی اور کیلوریز سے بھر پور غذاؤں (چاکلیٹ،کیک،کولڈڈرنک،جنگ فوڈز)کے باعث کیلشیم کی کمی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔صرف بزرگ ،ادھیڑ عمر افراد ہی نہیں نوجوان اور بچے بھی کیلشیم کی کمی سے متاثر ہورہے ہیں۔ ہڈیوں کی مضبوطی اور جوڑوں کے درد سے محفوظ رہنے کے لیے جسم میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کی طبعی مقدار موجود رہنا ضروری ہے۔
 
قدرتی طریقے سے حاصل کردہ کیلشیم صحت کے لئے زیادہ مفید اور فائدہ مند ہے۔کیلشیم کی مناسب مقدار جسم کو فراہم کرنے کے لئے کئی غذائیں کار آمدہیں
 
پھلیاں
پھلیاں انسانی جسم کو کیلشیم کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہیں۔سیم کی پھلی،مٹر،گوار کی پھلی،فرنچ بینز اور لوبیہ کی پھلی میں کیلشیم کے ساتھ پروٹین بھی وافر مقدار میں پایا جاتاہے۔
 
دودھ
دودھ کیلشیم کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہترین ٹانک ہے۔
اس میں کیلشیم بڑی مقدار میں پایاجاتاہے۔ دودھ میں موجود کیلشیم ہڈیوں،جوڑوں،پٹھوں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتاہے،اس کے علاوہ ڈیری اشیاء جیسے پنیر،دہی،اور مکھن بھی جسم کو مناسب مقدار میں کیلشیم فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ایک پاؤدودھ میں تیس فیصد کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے۔بوڑھے،بچے اور جوان ڈیری اشیاء کثرت سے استعمال کرکے صحت مند اور چاق وچوبند زندگی گزار سکتے ہیں۔
 
دہی
دہی ایک ایسی غذا ہے جس میں کیلشیم کے ساتھ وٹامن ڈی بھی کثیر تعداد میں موجود ہے۔ایک کپ دہی میں تیس فیصد کیلشیم اور بیس فیصد وٹامن ڈی موجود ہوتاہے جو ان دونوں غذاؤں کی ایک دن کی جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔
 
بادام
بادام کو روز مرہ کی خوراک میں شامل کرکے ہڈیوں کو صحت مند ومضبوط رکھنا ممکن ہے۔
بادام سے کیلشیم کے علاوہ صحت بخش چکنائی بھی حاصل کی جاسکتی ہے جو مجموعی صحت کے لئے مفید ہے۔
 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment