منگل, 31 مارچ 2020


کروناوائرس سے لڑنے کے لیے ’’روبوٹ ڈاکٹر‘‘ میدان میں آگیا

 
 
 
 
 
بیجنگ: کروناوائرس کے پیش نظر چین میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسا روبوٹ کیا گیا ہے جو ڈاکٹرز کی طرح ذمے داریاں نبھا سکتا ہے۔
 
غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین کی سرفہرست جامعات میں شامل ڈیزائنر چینہوا یونیورسٹی کے محققین نے ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو اسپتالوں میں کروناوائرس سے لڑنے کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔
 
مذکورہ روبوٹ میں مریض کا الٹرا ساؤنڈ کرنے، جسم کے مختلف اعضا کی آوازیں سننے سمیت منہ کا معائندہ کرنے کی بھی صلاحیت موجود ہے۔ ’’اسٹیسی اسکوپ‘‘ سے لیے جانے والے تمام کام یہ روبوٹ کرسکتا ہے۔
 
 
 
روبوٹ میں دو بازؤں کے علاوہ جدید کیمرے بھی نصب ہیں۔ یونیورسٹی کے پروفیسر ژینگ کا کہنا ہے کہ مذکورہ روبوٹ کو ایسے مشن سونپے جاسکتے ہیں جس میں ڈاکٹروں کا مریض کے پاس جانا خطرے کا باعث ہو۔
 
 
 
خیال رہے کہ پروفیسر کو اس قسم کا روبوٹ ڈیرائن کرنے کا خیال پہلی مرتبہ ووہان میں ہونے والے لاک ڈاؤن کے دوران آیا جہاں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہو رہا تھا۔
 
کروناوائرس کے مریضوں کے پاس جاکر علاج کرنے والے متعدد ڈاکٹر بھی مہلک وائرس کا شکار ہوئے۔ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اس روبوٹ کو کروناوائرس کے مریضوں کے پاس بھیج کر بنیادی معائنے بھی کیے جاسکتے ہیں

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment