پیر, 01 جون 2020


گلوٹن فری گندم کاشت، پیداوار میں بھی 35 فیصد تک اضافہ

پنجاب میں آرگینک طریقے سے گلوٹن فری گندم کی کاشت کا تجربہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں پیداوار میں بھی 35 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
لاہورکے سرحدی علاقے ایچوگل کے قریب 22 ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کی گئی تھی، گیارہ ایکڑ رقبے پرعام طریقے سے گندم کاشت ہوئی جب کہ 11 ایکڑ پر آرگینک طریقہ کار استعمال کیا گیا۔

گلوٹن فری گندم کی کاشت کا تجربہ سابق وائس آرمی چیف جنرل یوسف خان کے فارم ہاوس پر کیا گیا ہے، اس فارمولے کے استعمال سے ناصرف گندم کے سٹے زیادہ بڑے پیدا ہوئے بلکہ پیداوار بھی دوسری فصل کے مقابلے میں 6 من فی ایکڑ تک زیادہ آئی ہے، آرگینک پروٹوکول استعمال کرنے والوں کا دعوی ہے کہ یہ گلوٹن فری گندم ہے جوعام گندم کے مقابلے میں زیادہ مفید اورمہنگی ہے۔
پاک بحریہ کے سابق کمانڈر اور زرعی ماہر محمد رفیق کہتے ہیں کہ اچھی فصل اور پیداوار کے لئے اچھے بیج کے ساتھ ساتھ اچھی اور زرخیززمین کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ہمارے یہاں عام طور پر زمین کی پانچ، چھ انچ اوپرکی سطح پر ہل چلا کر بار بار فصل کاشت کی جاتی ہے اور کھادوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے زمین کی اوپری سطح کی زرخیزی کم ہوتی جاتی ہے۔

آرگینک لکویڈ پروٹوکول کی وجہ سے زمین کی زرخیزی بڑھ جاتی ہے،ایک ایکڑمیں ہم 2 لیٹر آرگینک لکویڈ پروٹوکول استعمال کرتے ہیں۔ یہ لکویڈ زمین میں کینچوے پیدا کرتا ہے جو ناصرف زمین کی زرخیزی بڑھاتے بلکہ زمین کی نچلی سطح کو نرم کردیتے ہیں، اسی طرح یہ لکویڈ پروٹوکول پودے کی غذائی ضروریات پورا کرتا ہے۔ ہم نے گندم کے کھیت کو 2 مرتبہ پانی دیا جس میں آرگینک لکویڈ پروٹوکول شامل کیا گیا جبکہ ایک بار اس کا اسپرے کیا گیاتھا، اب اس کا فرق صاف دیکھا جاسکتا ہے۔
آرگینک لکویڈ پروٹوکول تیارکرنے والے ادارے کے نمائندے مقصود احمد نے بتایا کہ ہم گزشتہ پندرہ سال سے مختلف فصلوں ،باغات اورنرسریوں میں اس پروٹوکول کواستعمال کررہے ہیں، یہ فارمول اکمرشل بنیادوں پر تیار نہیں کررہے ، جو بھی کاشتکار اسے اپنی فصلوں کے لئے استعمال کرنا چاہے ہم خود یہ سروسز فراہم کرتے ہیں۔ لاہور میں جس گندم میں یہ پروٹوکول استعمال ہوا ہے یہاں ہمیں ایک ماہ کی تاخیرہوگئی تھی، اس کے باوجود عام فصل کے مقابلے میں ہماری پیداوار زیادہ آئی ہے، گندم کا دانہ زیادہ بڑا ہے۔
دوسری طرف پی سی ایس آئی آر کی رپورٹ کے مطابق آرگینک فارمولے سے تیارکی گئی گندم مکمل طور پر گلوٹن فری نہیں ہے تاہم اس میں گلوٹن کی مقدار عام گندم کے مقابلے میں کم ہے اور یہ مقدار انسانی صحت کے لئے نقصان دہ نہیں ہے، عام گندم میں گلوٹن کی مقدار 12.82 فیصد ہوتی جس سے بعض افراد میں انتڑیوں کی بیماری پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
مقامی کاشتکاروں نے بتایا کہ لاہور اوراس کے قریبی علاقوں میں گندم کی فی ایکڑاوسط پیداوار 30 سے 35 من ہے تاہم جس رقبے پریہ فارمولہ استعمال ہوا ہے وہاں کی پیداوار زیادہ آئی ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment