جمعرات, 28 مئی 2020


آسٹریلیا بھی ان ممالک میں شامل جہاں کورونا ویکسین کی تیاری پر کام جاری ہے

 
 
 
 
 
 
سڈنی : آسٹریلیا کی وزیر سائنس کا کہنا ہے کہ 10 سے 15 ماہ میں دو کورونا ویکسین تیار ہوسکتی ہیں، اس ویکیسین کی امریکہ اور برطانیہ میں آزمائش کی جائے گی۔
 
آسٹریلیا بھی ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جہاں کورونا ویکسین کی تیاری پر کام جاری ہے، کامن ویلتھ سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ آرگنائزیشن (سی ایس آئی آر او) کے تحت سائنسدان دن رات اس کی تیاریوں میں مصروف عمل ہیں۔ آسٹریلیا میں رواں سال کے اختتام یا اگلے سال کے آغاز تک کورونا وائرس ویکسین تیار کی جاسکتی ہے۔
 
اس حوالے سے وفاقی وزیر سائنس کیرن اینڈریوز نے میڈیا کو بتایا کہ آسٹریلیائی دولت مشترکہ سائنسی اور صنعتی تحقیقاتی تنظیم (سی ایس آئی آر او) دو اقسام کی ویکسینوں کی جانچ پڑتال کررہی ہے جن میں سے ایک امریکہ اور ایک برطانیہ سے ہے۔ سی ایس آئی آر او برطانیہ اور امریکہ سے دو ویکسینوں کے بارے میں ٹیسٹ کر رہا ہے۔
 
 
وزیر سائنس کا کہنا ہے کہ 10 سے 15 ماہ میں ویکسین تیار ہوسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ سی ایس آئی آر او چین سے باہر پہلی ریسرچ تنظیم تھی جس نے تحقیق کو قابل بنائے جانے کے لئے وائرس کا کافی ذخیرہ تیار کیا، یہ تنظیم اپنے تیز رفتار کام کی بدولت اب پری کلینیکل ٹرائلز کے مرحلے پر ہے۔ یہ ایک ایسی پوزیشن ہے جس میں عام طور پر پہنچنے میں دو سال لگتے ہیں۔
 
ان کا مزید کہنا تھا کہ15ماہ کے اندر ویکسین تک پہنچنا ریکارڈ وقت ہوگا کیونکہ ویکسین کی نشوونما عام طور پر ایک لمبا اور پیچیدہ عمل ہے جس میں15 سال بھی لگ سکتے ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment