ھفتہ, 31 اکتوبر 2020


دنیا کا سب سے معتبر ایوارڈ تین سائنسدانوں کے نام

مانیٹرنگ ڈیسک : دنیا کا سب سے معتبر ایوارڈ دینے والی سویڈن کی سویڈش اکیڈمی آف نوبیل پرائز نے ’فزکس‘ (طبیعات) کا 2020 کا ایوارڈ امریکا، برطانیہ اور جرمنی کے تین سائنسدانوں کے نام کردیا۔

نوبیل پرائز کمیٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق رواں سال کا طبیعات کا نصف نوبیل پرائز برطانوی ریاضیدار راجر پینریز کو دیا جائے گا جب کہ ایوارڈ کا نصف حصہ امریکی خاتون سائنسدان اینڈریا گیز اور جرمن سائنسدان رینہارڈ گینزل کو دیا جائے گا۔

کمیٹی کے مطابق فزکس کے نوبیل انعام کا نصف حصہ برطانوی سائنسدان راجر پینریز کو ان کی بلیک ہول سے متعلق ابتدائی و جامع تحقیق کرنے کی خدمات پر دیا جا رہا ہے۔

جب کہ خاتون سائنسدان اینڈریا گیز اور رینہارڈ گینزل کو ہمارے کہکہشاں کے مرکز میں بہت بڑی مستند چیز کی کھوج لگانے پر فزکس کا نصف نوبیل انعام دیا جا رہا ہے۔
نوبیل پرائز کمیٹی نے تینوں سائنسدانوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی تحقیقات کو طبیعات کی جدید تحقیقات کا بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ان کی ابتدائی تحقیقات سے ہی دنیا دیگر رازوں سے باخبر ہوئی۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق برطانوی سائنسدان راجر پینریز نے البرٹ آئن اسٹائن کی موت کے محض 10 سال بعد 1965 میں بلیک ہول سے متعلق تحقیقات کرکے سب کو حیران کردیا۔

کمیٹی نے بتایا کہ اینڈریا گیز اور رینہارڈ گینزل نے 1990 میں ہمارے کہکہشاں کے مرکز میں بہت بڑی مستند چیز کی کھوج لگا کر خلانوردوں اور خلائی ماہرین کے لیے تحقیق کی نئی سمت متعین کی۔

سال 2020 کی طرح گزشتہ سال بھی طبیعات کا نوبیل انعام تین مختلف سائنسدانوں کو دیا گیا تھا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment