پیر, 25 مارچ 2019


پاک بھارت مذاکرات کا آغاز ہوگیا،

 
نئی دہلی : پاکستان اوربھارت کےدرمیان کرتارپور راہداری کھولنے کےمنصوبے کوعملی جامہ پہنانے کیلئے مذاکرات کا بھارتی شہر اٹاری میں جاری ہیں، پہلے دور کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ متوقع ہے۔
 
کرتارپور راہداری کھولنے کےمنصوبے کوعملی جامہ پہنانے کیلئے وزارت خارجہ کی سطح پر پاک بھارت مذاکرات کا آغاز ہوگیا، 18 رکنی پاکستانی وفد کی قیادت دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کررہے ہیں۔
 
ملاقات اٹاری کمپلیکس میں ہورہی ہے، جس میں پاکستانی اور بھارتی وفود سکھوں کے مقدس مقام کرتارپورصاحب تک بھارتی یاتریوں کی آمد ورفت کھولنے کے سلسلے میں تفصیلات پربات چیت کر رہے ہیں۔
 
مذاکرات میں دونوں ممالک کے تکنیکی اورقانونی ماہرین شامل ہیں جبکہ مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر پاکستان اور بھارت کامشترکہ اعلامیہ متوقع ہے۔
 
بھارت کے سرحدی علاقے اٹاری میں ہونے والے مذاکرات صبح نوسے شام پانچ بجے تک جاری رہیں گے، بعد ازاں پاکستانی وفد واہگہ بارڈر پر مذاکراتی پیشرفت سےآگاہ کرےگا۔
 
روانگی سے قبل دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کرتارپورراہداری کھولنےکاایجنڈا لےکر جارہے ہیں،امید ہےبھارت بھی مثبت قدم بڑھائےگا،پاک بھارت کشیدگی میں کمی خطےکےامن کےلیےضروری ہے،راہداری پراجلاس وزیراعظم کےوژن کاعکاس ہے۔
 
خیال رہے کہ کرتارپور راہ داری پر مذاکرات کی کوریج کے لیے پاکستان نے بھارت کو پاکستانی صحافیوں کو ویزا دینے کی درخواست کی تھی جسے انڈیا نے مسترد کر دیا تھا ، جس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے اس اقدام کو افسوس ناک قرار دیا تھا اور کہا تھا کہا پاکستان نےکرتار پورراہداری کےسنگ بنیادپرتیس بھارتی صحافیوں کوویزے جاری کیےتھے۔
 
یاد رہے 7 فروری کو پاکستان نے کرتارپور راہ داری کے سلسلے میں بھارت کو مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے 2 تاریخیں دی تھیں جس پر بھارت نے بھی مثبت جواب دیا تھا۔
 
واضح رہے پاکستان نے کرتار پور بارڈر کھولنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد بھارت بھی اس اقدام کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگیا تھا، نئی دہلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے عوام کو جوڑے گا اور ہم بہتر مستقبل کی طرف جائیں گے‘۔
 
بعد ازاں 28 نومبر کو وزیراعظم عمران خان نے کرتارپوربارڈر کا افتتاح کرتے ہوئے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی تھی اور کہا تھا ہندوستان ایک قدم بڑھائےہم دوبڑھائیں گے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment