بدھ, 17 جولائی 2019


بھارت کے انتہا پسند ہندو پھربے قابو

 
نئی دہلی: بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ میں ہندو انتہاء پسندوں نے مردہ گائے کی کھال اتارنے پر عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے شہری کو قتل جبکہ 3 کو زخمی کردیا۔
 
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقی ریاست اتر کھنڈ میں افسوسناک واقع اُس پیش آیا جب مسیحی برداری سے تعلق رکھنے والے تین شہری سڑک پر پڑی مردہ گائے کی کھال اتارنی شروع کی۔
 
وہاں سے گزرنے والے ایک ہندو شخص نے انتہاء پسندوں کو اطلاع دی جس کے بعد مشتعل افراد نے اُن پر ڈنڈوں اور سریوں سے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں تینوں شدید زخمی ہوئے۔
 
 
پولیس واقع کی الطلاع موصول ہونے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچی مگر مشتعل افراد کو روکنے کے بجائے انہوں نے کھڑے ہو کر تماشہ دیکھنے کو ترجیح دی اور جب ہندو انتہاء پسند تھک گئے تو پولیس نے تینوں کو اسپتال منتقل کیا۔
 
اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد تینوں کو انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا گیا جن میں سے ایک شہری جاں بحق ہوگیا جبکہ دو کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
 
میڈیکل لیگو آفیسر مینا کے مطابق ’’ تینوں زخمیوں کے جسموں اور سروں پر گہرے زخم ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں سریے اور ڈنڈے سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا‘‘۔
 
دوسری جانب پولیس نے ہندو انتہاء پسندوں کو بچانے کے لیے قتل کے الزام میں 2 افراد کو گرفتار کر کے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’ہندو انتہا پسند جماعت کے کارکنان کو اس ہنگامے میں ملوث کرنا ابھی قبل ازوقت ہوگا، ملزمان سے تفتیش کے بعد ہی کچھ بتایا جاسکتا ہے’۔
 
 
 
پولیس حکام کے مطابق بیل کی موت طبعی طریقے سے ہوئی مگر ہمارے پاس مقدمہ درج ہوا کہ تینوں لوگوں نے اُسے ذبح کیا، اس ضمن میں ایک عینی شاہد بھی سامنے آیا تاہم معاملے کی تحقیقات جاری ہیں‘۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment