پیر, 27 جنوری 2020


پاکستانی سائنٹسنٹ نےآسٹریلیا میں"ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ"جیت کروطن کانام روشن کردیا

سڈنی: پاکستانی سائنٹسٹ کا اعلیٰ کارنامہ، آسٹریلیا میں " ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ" جیت کر وطن کا نام روشن کردیا ۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پاکستان کے ہونہار سائنس داں ڈاکٹر فیصل شفاعت نے ’ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ 2019‘ جیت لیا۔ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے وہ پہلے مسلمان اور پاکستانی بھی ہیں۔
 
یہ ایوارڈ انہیں سڈنی میں منعقدہ پندرہویں’انٹرنیشنل کانفرنس آن ڈاکیومنٹ اینالیسس اینڈ ریکگنیشن (آئی سی ڈی اے آر)‘ میں عطا کیا گیا۔ ڈاکٹر فیصل کو دستاویز (ڈاکیومنٹ) کے تصویری تجزیئے کمپیوٹیشنل فارنسک پر ایوارڈ دیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہ ایوارڈ جرمنی، امریکا، چین، اسپین اور دیگر ممالک کے سائنس دانوں کو عطا کیا گیا ہے۔
 
ڈاکٹر فیصل کا اہم کارنامہ متن (اسکرپٹ) کو پڑھنے والا خود کار نظام ہے جو پاکستان کی کم ترقی یافتہ زبانوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔ پاکستان جیسے ترقی یافتہ ملک میں جہاں آبادی کا بڑا حصہ ناخواندہ ہے، ڈاکٹر فیصل کی یہ کاوش پاکستان کی کم ترقی یافتہ زبانوں کے لیے ا نتہائی مفید ثابت ہوگی۔ ڈاکٹر فیصل نے دن رات کی عرق ریزی کے بعد ایک ایس کمپیوٹرائزڈ نظام بنایا ہے جو او سی آر کی طرز پر کسی بھی تصویر میں موجود متن کو پڑھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس طرح پاکستان کی کم ازکم 10 کروڑ نا خواندہ آبادی اپنے اسمارٹ فون کو دیکھ کر کہیں بھی نصب یا لکھا ہوا متن پڑھ سکتی ہے۔
 
ڈاکٹر فیصل کے اس انقلابی کام کی دنیا بھر میں نہ صرف پذیرائی ہوئی بلکہ اس موضوع پر شائع ان کے تحقیقی مقالے کا حوالہ 5000 مرتبہ دیا گیا ہے،جسے تحقیقی جرنل کی زبان میں " سائٹیشن " کہا جاتا ہے۔
 
ڈاکٹر فیصل نے نسٹ کے شعبہ کمپیوٹر سائنس و انجینئرنگ میں ایک عرصے تک تحقیق کی ہے، اس کے علاوہ ڈاکٹر فیصل گوگل اوپن سورس ٹیکسٹ ریکگنیشن فریم ورک میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں بھی پڑھا چکے ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment