پیر, 27 جنوری 2020


زائرین وسیاحوں کی صحت کاخیال رکھنےکےلیےریسٹورنٹس پرکڑی پابندیاں عائد

ریاض: سعودی عرب میں زائرین و سیاحوں کی صحت کا خیال رکھنے کے لیے ریسٹورنٹس پر کڑی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔
 
سعودی اخبار کے مطابق سعودی وزارت بلدیات و دیہی امور نے ریسٹورنٹس اور عربی کھانے ’حنیذ‘ اور ’مندی‘ تیار کرنے والے مراکز پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ پابندیاں حفظان صحت کے ضوابط سے متعلق ہیں۔ خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی کا انتباہ جاری کیا جائے گا۔
 
وزارت کے ماتحت حفظان صحت کے ادارے کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی مقصد مقامی شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور زیارت و سیاحت کے لیے آنے والوں کی صحت کا تحفظ ہے۔
 
ادارے کی جانب سے حفظان صحت کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاتی ہے اور ریسٹورنٹس نیز مختلف قسم کے کھانے تیار کرنے والے مراکز کو احتیاطی تدابیر اپنانے پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ زہر خورانی کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔
 
ریسٹورنٹس اور عربی کھانے تیار کرنے والے مراکز کے لیے حفظان صحت کے لائحہ عمل میں تاکید کی گئی ہے کہ روٹی تیار کرنے اور کھانے بنانے کے لیے مخصوص قسم کے تندور کا استعمال کیا جائے، اس بات سے تحریری طور پر انہیں آگاہ بھی کردیا گیا ہے۔
 
یہ پابندی بھی لگائی گئی ہے کہ تندور کے ڈھکن ایسی دھات کے ہوں جو زنگ آلود نہ ہوتے ہوں اور تندور کے اوپر والے حصے اور اس کے درمیان خاص فاصلہ رکھا جائے۔ اس سلسلے میں متعدد تکنیکی پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں۔
ہدایات کے مطابق عربی کھانے تیار کرنے والے مراکز موٹے کپڑے کی 2 تہیں استعمال کریں اور اس کے اوپر تندور کو بند کرنے کے لیے ریت کی تہہ لگائی جائے اور تندور کی حرارت کے اخراج کو قوت کے ساتھ روکا جائے، کپڑا روزانہ کی بنیاد پر صاف کیا جائے۔
 
ریسٹورنٹس کو لوہے یا معدنیات کے کین استعمال کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ ریسٹورنٹس اور عربی کھانے تیار کرنے والے مراکز بجلی، گیس، کوئلے یا پتھر سے چلنے والے چولہے استعمال کرنے کے پابند ہیں۔
 
ایک پابندی یہ بھی لگائی گئی ہے کہ ہر ریسٹورنٹس اپنے یہاں دھوئیں کے اخراج کا معقول انتظام کرے۔ دھوئیں اور ناپسندیدہ بو ریسٹورنٹس میں نہ آنے پائے اور دھواں پابندی سے باہر نکلتا رہے۔ ایگزاسٹ فین 50 سینٹی میٹر سے کم سائز کے نہ ہوں اور چمنی برابر کی عمارت سے 2 میٹر اونچائی پر ہو۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment