جمعرات, 28 مئی 2020


کرونا کی دوا نے نئی امید پیدا کر دی

 
 
 
لندن: نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا وائرس کی تجرباتی دوا سے دو تہائی انتہائی تشویش ناک مریضوں کی حالت بہتر کرنے میں مدد ملی ہے۔
 
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گیلیڈ سائنسز نامی کمپنی نے کرونا کی دوا ‘ریمیڈیسیور’ تیار کی ہے جسے 61 مریضوں پر آزمایا گیا۔
 
نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسنز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مصنف نے لکھا کہ اس دوا سے ایک امید پیدا ہوئی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ بات ابھی حتمی نہیں ہے کہ اس دوا سے مکمل طور پر کرونا کے مریضوں کو صحت یاب کیا جاسکتا ہے۔
 
 
گیلیڈ سائنسز نامی کمپنی نے گزشتہ ماہ اس دوا کے تجربے کا آغاز کیا تھا جس کے نتائج کچھ ہفتوں کے بعد سامنے آئے ہیں، چین اور امریکا کے نیشنل انسیٹیوٹ آف ہیلتھ میں بھی اس دوا پر تجربات کیے جا رہے ہیں۔
 
گیلیڈ نے اس تجربے میں امریکا، یورپ کینیڈا اور جاپان کے مریضوں کو شامل کیا جنہیں اس دوا کا 10 روز کا کورس کروایا گیا۔تحقیق کے مطابق اس تجربے سے قبل 36 مریض وینٹی لیٹر پر تھے جن میں سے آدھے سے زیادہ مریضوں کا سانس بہتر ہوا، ان کا وینٹی لیٹر اتار دیا گیا، 25 مریضوں کو صحت یابی کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا اور 7 مریض ہلاک ہوگئے۔
 
واضح رہے کہ کرونا وائرس سے دنیا بھر میں 1 لاکھ سے زائد لوگ ہلاک جبکہ 17 لاکھ سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment