جمعہ, 18 اکتوبر 2019


3 روز کے مسلسل ریسکیوآپریشن کےبعد 1000 فٹ گہرائی سےنکال لی گئی

کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری کی کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھر جانے کے باعث پھنسے والے 9 کان کُن جاں بحق ہو گئے۔

 ڈیگاری میں کوئلہ کان میں پھنسے سے جاں بحق ہونے والے کان کنوں کی لاشیں 3 روز کے مسلسل ریسکیو آپریشن کے بعد 1000 فٹ گہرائی سے نکال لی گئی ہیں جب کہ میں واحد بچنے والے کان کُن کو علاج کے لیے سول اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ڈیگاری کوئلہ کان حادثے میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کو ہر ممکن معاونت کے لیے ہدایت کی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے متعلقہ حکام کو کانوں میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لےکر سفارشات پیش کرنےکی ہدایت کے ساتھ محکمہ معدنیات کو حکم دیا ہے تین روز میں حادثے کی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کریں۔

انہوں نے حادثات کی روک تھام کے لیے کانوں میں حفاظتی اقدامات اور کان کنی کے علاقوں میں صحت کی سہولیات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں مائنز انسپکشن آفیسر اور کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے ضروری آلات کا فقدان ہےجس کے سبب آئے روز کانوں کے اندر زہر یلی گیس بھرنے کے باعث حادثات اب معمول بن چکے ہیں۔

رواں برس اب تک متعدد کان حادثات میں 47 کان کنوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment