منگل, 27 اکتوبر 2020


سائبر کرائم بل منظور

ایمزٹی وی(اسلام آباد) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سائبر کرائم بل کے مسودے کی منظوری دے دی جس کے تحت اب نفرت انگیز تقریر سمیت فرقہ واریت پھیلانے اور مذہبی منافرت پر 7 سال سزا ہوگی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر شاہی سید کی زیر صدارت ہوا جس میں سائبر کرائم بل کے مسودے کی منظوری دی گئی جس کے بعد اب بل کو سینیٹ کے رواں اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

 

بل کے مسودے کے مطابق اب دہشت گردی سے متعلق سائبر جرائم میں ملوث افراد پر 14سال قید اور 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا جب کہ نفرت انگیز تقریر، فرقہ واریت پھیلانے اور مذہبی منافرت پر7 سال سزا ہوگی، انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے پر بھی 7 سال سزا ہوگی۔ بل کے تحت بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر شائع کرنے یا اپ لوڈ کرنے پر 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ انٹرنیٹ ڈیٹا کے غلط استعمال پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ جب کہ موبائل فون کی ٹیمپرنگ پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

 

بل کے مسودے کے مطابق انٹرنیٹ صارفین کا ڈیٹا عدالتی حکم کے بغیر شیئر نہیں کیا جائے گا۔ اس بل کے مسودے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سائبرکرائم قانون کا اطلاق صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ملک سے باہر کسی بھی دوسرے ملک میں بیٹھ کر ریاستی سالمیت کے خلاف کام کرنے والے افراد پر بھی ہوگا۔ بل میں کہا گیا ہے کہ ریاستی سالمیت کے خلاف کام کرنے والے افراد کی گرفتاری کے لیے متعقلہ ممالک سے رجوع کیا جائے گا۔ واضح رہےکہ سائبر کرائم بل کو رواں سال اپریل میں قومی اسمبلی میں منظور کیا گیا تھا تاہم پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں نے بل پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد بل کو قائمہ کمیٹی بھجوایا گیا اوراس میں کچھ ترامیم کی گئی ہیں۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment