ھفتہ, 14 دسمبر 2019


افغانستان نے سی پیک کی حمایت کر دی

ایمزٹی وی(اسلام آباد) افغانستان نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو خطے کے لیے لازمی قرار دیتے ہوئے منصوبے کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرادی ہے۔

اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر نے بدھ کو راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیراہتمام پاکستان افغانستان سینٹرل ایشین ریجن ٹریڈ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں علاقائی تجارت میں اضافہ ہو رہا ہے،

ہمیں بھی ریجنل ٹریڈ کو فروغ دینا ہوگااور اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے ، سی پیک منصوبہ پاکستان کے علاوہ افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کے لیے بھی مفید ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان تجارت کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے، دنیا میں علاقائی تجارت فروغ پا رہی ہے ، پاکستان اس سلسلے میں تجارت میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اقدامات کررہا ہے، افغانستان سے تجارتی تعلقات کو فروغ مل رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم بڑھا ہے۔

وفاقی وزیر پلاننگ احسن اقبال نے کہا کہ خطے کی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے، افغانستان بھی کہتا ہے کہ اقتصادی راہداری پورے خطے کا منصوبہ ہے، ہمارا مقصد برآمدات میں اضافہ کرنا ہے، گوادر بندرگاہ وسط ایشیا کے لیے پرکشش ہے،کوئٹہ کا سانحہ المناک ہے،

اس کی جڑ تک پہنچیں گے، ہم نے دشمن سے ڈرنا نہیں ہے بلکہ ان کے عزائم کو ناکام بنانا ہے، ہم حالت جنگ میں ہیں، سی پیک منصوبے کو ہرگز بند نہیں کریں گے۔

بہت جلد توانائی بحران پر قابو پا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ترقی دینا ہے تو برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا، ہمیں علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہو گا، سی پیک کے دشمنوں کو شکست دے کر اس کو حقیقت بنائیں گے۔ کانفرنس کے بعد راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں ہمایوں پرویز، خورشید برلاس، سہیل الطاف سمیت دیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا مقصد تجارت کے مسائل کو حل کرکے کاروبار کے لیے سہل بنانا تھا

، ہمارا مطالبہ ہے کہ سیاسی معاملات کو الگ رکھیں اور تجارت کو چلنا چاہیے، تجارت کو ہی تعلقات کی بنیاد بنایا جائے

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment