جمعہ, 30 اکتوبر 2020


ستمبر 1965 ملک کی تاریخ کا روشن باب ہے، آرمی چیف

ایمزٹی وی(اسلام آباد)جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں یوم دفاع کی مناسب سے مرکزی تقریب منعقد ہوئی۔تقریب میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، سفرا، وزیردفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیراطلاعات پرویزرشید، ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ سمیت نمایاں سیاسی و عسکری شخصیات نے شرکت کی۔

یوم شہدا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ تمام سازشوں کے باوجود سرحدوں کی حفاظت کے لیے تیار ہیں، قومی سلامتی کی خاطر کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کریں گے، روایتی و غیر روایتی ہر انداز میں وطن عزیز کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہم اپنے دشمنوں کی ہر سازش سے بخوبی آگاہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ستمبر 1965 ملک کی تاریخ کا روشن باب ہے اور شہدا کی بدولت آزاد اور باوقار ملک میں رہ رہے ہیں جب کہ دہشت گردی کے ناسور سے کئی ممالک انتشار کا شکار ہوئے لیکن اللہ کے کرم سے پاکستان نے دہشت گردی کے چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کیا۔

جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ دشمنوں کو بتانا چاہتا ہوں کامیابیوں کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں، امن کی خاطر ہم نے اپنے گھر بار چھوڑنے کی تکالیف برداشت کیں لیکن ہمارے امن کولاحق اندرونی، بیرونی خطرات پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔ سربراہ پاک فوج نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں، حق خوداریت کے لیے مقبوضہ کشمیرکی عوام کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، کشمیر ہماری شہہ رگ ہے اور کشمیریوں کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، کشمیر کا حل گولیوں کی بارش نہیں اس کے لیے وہاں کے عوام کی سننا ہوگی، کشمیر کے مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے سے ہی ممکن ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ دفاع وطن پر قربان ہونے والے اے پی ایس کے شہدا، باچا خان یونیورسٹی کے شہید طلبا، بلوچستان کے وکیل، ایف سی، رینجرز، لیویز، پاک فوج کے شہدا اور باہمت جوانوں اور ان کے باہمت لواحقین کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں، آپ کا جذبہ ہمارا حوصلہ بڑھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم اور کرپشن کا گٹھ جوڑ امن کی راہ میں رکاوٹ ہے، دانشوروں اور میڈیا کو اسلام کا پرامن پیغام پھیلانا ہوگا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment