پیر, 19 اگست 2019


اعلیٰ ترین وکلاء کی ایک نسل ختم ہو گئی,فرحت اللہ بابر


ایمزٹی وی (اسلام آباد) سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ اچھی بات ہے، تاہم دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے کالعدم تنظیموں اور اداروں کا گٹھ جوڑ ختم کیا جائے،

حقائق سے آنکھیں نہ چھپائی جائیں۔سینیٹ کا اجلاس سینیٹر احمد حسن کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں کوئٹہ اور مردان میں دہشت گردی کے واقعات پر بحث کی گئی۔ اجلاس کے دوران سینیٹر ڈاکٹر جہاں زیب جمال دینی کا کہنا تھا


کہ سانحہ کوئٹہ میں بیٹے کی شہادت پر دکھ ہوا، خدارا آئندہ نسلوں کو بچا لیں اب تو قبرستان بھی محفوظ نہیں رہے۔سینیٹر ڈاکٹر جہاں زیب جمال دینی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں ایک بھی ٹراما سنٹر نہیں ہے۔ میرا بیٹا ساڑھے سات گھنٹے تڑپتا رہا،

ایمرجنسی میں اسپتالوں میں وی وی آئی پی کا فوٹو سیشن ختم ہونا چاہئے۔ اعلیٰ ترین وکلاء کی ایک نسل ختم ہو گئی، لیکن اداروں نے کیا پیش رفت کی دھماکوں کی ذمہ داری را پر ڈالنے سے ادارے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ ہمارا سوال ہے را کو روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment