پیر, 08 مارچ 2021


مشرقی پاکستان کو ہم سے الگ  ہوئے آج تنتالیس برس گزر  گئے

1971 کو آج ہی کے روز پاک بھارت جنگ کے دوران مشرقی پاکستان کو ہم سے الگ  ہوئے آج تنتالیس برس گزر چکے ہیں ، مگر آج بھی اس دن کی تکلیف اور اذیت کا اثر کم نہ ہوسکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ملک کے دونوں بازوؤں کے درمیان پہلی دراڑ، اردو کو قومی زبان کا درجہ دیئے جانے پر پڑی، جسے اس وقت کی حکمران جماعت کی جانب سے 1951 میں مشرقی پاکستان میں انتخابات نہ کرواکر گہرا کیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔1970 کے عام انتخابات میں مجیب الرحمان کو واضح اکثریت ملی لیکن اقتدار انہیں سونپنے کے بجائے آمریت کا سہارا لیا گیا اور بالاخر بھارتی جارحیت نے ملک کو توڑنے کے لئے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ۔جس کے بعد پرتشدد مظاہروں سے حالات مزید بگڑ گئے۔دشمن نے بھی اس کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگی عزائم کو عملی جامہ پہنایا اور پاکستان پر جنگ مسلط کر دی جو سقوط ڈھاکہ پے ختم ہوئی ۔مشرقی پاکستان میں ملک کو ٹوٹنے سے روکنے کے لئے قربانیاں بھی دی گئیں تھیں اور بھارتی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کی گئی تھی ان میں بنگالی اور غیر بنگالی دونوں ہی شامل تھے۔  گو کہ اب مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنے تینتالیس برس گزر گئے ہیں لیکن کروڑوں پاکستانیوں کے دل آج بھی مشرقی پاکستان کے لئے دھڑکتے ہیں۔ اس موقع پر ملک بھر میں مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے سیمینارز ، ریلیاں اور دیگر تقریبات منعقد کی جارہی ہیں،تجزیہ کار کہتے ہیں تاریخ سکھاتی ہے کہ سیاسی اور انتظامی فیصلوں میں غلطیوں سے بچاجاتا  تو آج پاکستان کی تاریخ پر یہ سیاہ داغ نہ ہوتا۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment