منگل, 20 اگست 2019


1947سے تحقیقات میں 20سال لگیں گے

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)سپریم کورٹ میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے پاناما لیکس کیس کی سماعت کی جس میں وزیر اعظم کی فیملی نے اپنے دستاویزات جمع کرائے ۔اس موقع پر ایڈووکیٹ طارق اسد نے کہا کہ یہ بہت اہم کیس ہے ،تیز رفتاری سے چلانے میں انصاف کے تقاضے پور ے نہیں ہو نگے جس پر چیف جسٹس نے کہا یہ ہمارا کام ہے ،انصاف کے تقاضے پورے ہونگے ۔

سپریم کورٹ میں شریف فیملی نے کون سےدستاویزات جمع کرائے؟

 

انہوں نے کہا کہ اگر 1947سے تحقیقات شروع ہو ں تو 20سال لگیں گے ،کرپشن کی تحقیقات سپریم کورٹ کا کام نہیں ،کسی اے بی سی نے کرپشن کی ہے تو نیچے عدالتیں موجود ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ 700صفحات ایک طرف سے ،1600دوسری طرف سے جمع کرائے گئے ،ہم کوئی کمپیوٹر تو نہیں کہ ایک منٹ میں کاغذات کو اسکین کر لیں ۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ہم بار بار کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے ،پاناما لیکس پر اتنی درخواستیں آ رہی ہیں شائد الگ سے سیل کھولنا پڑے ۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment