جمعہ, 27 مئی 2022


پارلیمنٹ کے بائیکاٹ سےترک صدر پر غلط تاثر

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو روکنے کےلئے بھارتی بربریت کی مثال نہیں ملتی لیکن آزادی کی تحریک اب رکتی نظر نہیں آتی اور یہ جدوجہد آزادی تک جاری رہے گی پاکستان بھی دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کو اٹھارہا ہے اور کشمیریوں کی سیاسی و اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

ایاز صادق کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانے کے لئے ہر قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے کبھی بھارتی ایجنٹ پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث ہوتے ہیں جس کا واضح ثبوت پاکستان کے خلاف کام کرنے والے بھارتی سفارتکاروں کو پاکستان بدر کرنا ہے، اور کبھی بھارت فوج کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈی پر بے گناہ عوام کو فائرنگ اور گولہ باری کے ذریعے نشانہ بناتی ہے گزشتہ روز بھی ہمارے 7 فوجی جوانوں کو شہید کردیا گیا ، بھارت کو عقل کے ناخن لینے چاہئے پاکستانی فوج اور عوام بھارت کا مقابلہ کرنا بخوبی جانتے ہیں جب بھی بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی کی گئی تو پاک فوج کی جانب سے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ترک صدر کی پاکستان آمد پر سیاسی جماعتوں کو یکجا ہوکر ان کا استقبال کرنا چاہئے ، جب بھی کسی گھر میں مہمان آتا ہے تو گھر کی لڑائی کو ختم کرکے اس کا استقبال کیا جاتا ہے ترک صدر کے آنے پر گھر کی لڑائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ چین اور ترکی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

پاناماکیس کے حوالے سے ایاز صادق کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو کام کرنے دیا جائے اور فیصلے کا انتظار کیا جائے ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں جو بھی فیصلہ آیا اسے من و عن قبول کیا جائے گا اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ سب کو اداروں کی عزت کرنے کی توفیق دے ۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment