جمعرات, 15 اپریل 2021


پاکستان کو ہے نئے آرمی کی تلاش

 

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)نیا آرمی چیف کون ہوگا؟ اس سوال کا جواب آئندہ 24 گھنٹوں میں ملنے کا امکان ہے اور امید ہے کہ وزیراعظم نواز شریف آج ترکمانستان سے واپسی پر نئے آرمی چیف کے نام کی منظوری دے دیں گے۔ آرمی چیف کے علاوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود بھی آج رٹائر ہورہے ہیں اور اس اہم عہدے پر بھی تقرری ہونا ہے۔

قبل ازیں خیال کیا جارہا تھا کہ آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ایک ہی روز ریٹائر ہونگے مگر اب فوجی حکام نے وضاحت کردی ہے کہ جنرل راشد محمود نے جنرل راحیل شریف سے ایک روز قبل عہدہ سنبھالا تھا، اس لئے وہ ایک روز قبل ریٹائر ہونگے۔
نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی پیر کے روز عہدے کا حلف اٹھائیں گے جبکہ اس کے اگلے روز نئے آرمی چیف پاک فوج کی کمان سنبھالیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ وزیراعظم نئی تقرریوں کی منظوری کو اتوار سے آگے نہیں لے جاسکتے۔ اعلیٰ فوجی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور آرمی چیف کے عہدوں پر نئی تقرریاں اتوار کے روز ہی کی جائیں گی۔

توقع ہے کہ وفاقی حکومت اتوار کی صبح نئے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی اور آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کرے گی مگر آج رات نوٹیفکیشن کے اجرا کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ دونوں نئی تقرریوں کے لیے پاک فوج کے پانچ سینئر تھری اسٹار جرنیلوں کے ناموں پر مشتمل سمری وزیراعظم ہاؤس بھجوا دی گئی ہے۔

اس سے قبل معلوم ہوا تھا کہ4 سینئر تھری اسٹار جرنیل لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات، لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم، لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے اور لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور آرمی چیف کی دوڑ میں شامل ہیں مگر اب کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق کا نام بھی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔

اس فہرست میں سے کسی کو بھی چیئرمین اور آرمی چیف کے عہدوں پر تعینات کرنا وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔علاوہ ازیں جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز میں جنرل راشد محمود کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق جنرل راشد محمود پاک فوج میں 41 سال تک خدمات انجام دینے کے بعد آج ریٹائر ہورہے ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جنرل راشد محمود نے کہا کہ انھیں پاک فوج کا حصہ رہنے پر فخر ہے اور فوج قومی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلیے مزید آگے بڑھی ہے۔ انھوں نے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلیے پاک فوج کے عزم و حوصلے کی تعریف کی اور فورسز کی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔

 

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment