جمعہ, 30 اکتوبر 2020


سپریم کورٹ نے جدہ اسٹیل مل پر سوال کھڑے کردیئے

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران نعیم بخاری کے دلائل پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ جدہ فیکٹری کی دستاویز ہمارے پاس نہیں جس پر نعیم بخاری نے جوا ب دیا کہ شہباز شریف نے طارق شفیع بن کر دستخط کیے ۔طارق شفیع نے بیان میں آدھا سچ بولا ۔ گلف اسٹیل مل کیلئے قرضہ 26ملین ڈالر تھا۔ گلف اسٹیل مل 21 ملین درہم میں فروخت ہوئی مگر مل کی فروخت سے طارق شفیع کو ایک روپیہ بھی واپس نہیں دیا گیا ۔
جبکہ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ دبئی اسٹیل مل کی طرح جدہ اسٹیل مل کا سرمایہ کہاں سے آیا یہ نہیں بتایا گیا ، سرمایہ فلیٹس کیلئے استعمال کیا گیا مگر وہ بھی نہیں بتایا گیا ۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ دونوں مواقع پر کی گئی تقریروں میں تضاد ہے ۔ جدہ فیکٹری کتنے میں اور کیس بیچی گئی ،سعودی بینکوں سے قرضہ کیسے لیا گیا ؟ ،عدالت میں پیش کر دہ ضمنی جواب اور تقاریر میں تضاد ہے ۔دستاویز ہر جگہ ہونگی مگر عدالت میں نہیں ۔شریف خاندان
12ملین درہم کی قطر میں سرمایہ کاری کا کہتا ہے ۔معاہدے کے مطابق 75فیصد رقم براہ راست بینک کو دی گئی ۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment