جمعرات, 29 اکتوبر 2020


فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئین میں 21 ویں ترمیم کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔

ایمز ٹی وی (اسلام آباد) اجلاس کی صدارت اسپیکر ایاز صادق کر رہے تھے جبکہ وزیر اعظ، نواز شریف بھی اجلاس میں موجود تھے۔آئین میں ترمیم کے لیے پیش کی گئی تحریک کے لیے کے لیے 245 ارکان نے حمایت کی۔قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان موجود نہیں تھے اس لیے ان کی جانب سے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا گیا۔21 ویں ترمیم کے لیے شق وار منظوری لی گئی جس میں کسی بھی رکن نے مخالفت نہیں۔واضح رہے کہ آئیں میں ترمیم کے لیے 342 رکنی ایوان میں 228 ارکان کی حمایت کی ضرورت تھی جبکہ ایوان میں 245 اراکین موجود تھے۔ایوان میں 179 اراکین کا تعلق حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) سے ہے جبکہ اسکے علاوہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتیں شامل ہیں۔اجلاس کے آغاز میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید کا خطاب میں کہنا تھا کہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے خاتمے پر متفق ہیں، طالب علم مدرسے کا ہو یا کالج کا، دین کے خلاف بات نہیں کر سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بے دردی سے لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے، دہشت گرد اسلام کا چہرہ مسخ کر رہے ہیں، فوجی عدالتوں کا کڑوا گھونٹ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے پیا جارہاہے۔ان کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ مذہب کے خلاف نہیں ہے، آئین میں واضح ہے کہ اسلام ہی ہمارا دین ہے، آرمی ایکٹ دین اوراسلام کواستعمال کرنےوالےدہشت گردوں کےخلاف استعمال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یقین ہےکہ فوجی عدالتیں آئین کی پاسداری کریں گی، دہشت گردمدرسےکاہویاگرامراسکول کا،کسی سےرعایت نہیں ہونی چاہیے، دہشت گردوں کےخلاف کارروائی میں کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے،کچھ فیصلے وقت کےساتھ کیے جاتےہیں، دین کےاحکامات کےخلاف کوئی قانون پاس کرنےکاسوچنابھی گناہ ہے۔

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment