بدھ, 28 اکتوبر 2020


جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف کے عہدہ کیلئے فیورٹ امیدوار نہیں تھے

 


ایمزٹی وی(راولپنڈی)جنرل قمر جاوید باجوہ کے صاحبزادے سعد نے کہاہے کہ ہر آرمی چیف کے کام کرنے کا اپنا ایک طریقہ کار ہو تاہے جبکہ ہمارے والد آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں

جنرل قمر جاوید باجوہ کے 27 سالہ صاجزادے بیرسٹر سعد نے ایک امریکی جریدے کو بتایا کہ وزیراعظم ہاﺅس سے یہ اطلاع اچانک ہی آئی جبکہ ان کے والد آرمی چیف کے عہدہ کیلئے کوئی فیورٹ امیدوار نہیں تھے بلکہ وہ سنیارٹی میں چوتھے نمبر پر تھے اور انہیں اپنے انتخاب کی بہت ہی کم توقع تھی تاہم تین روز بعد انہیں دنیا کی چھٹی بڑی فوج کے 16 ویں سربراہ کی حیثیت سے نامزد کر دیا گیا۔

فیملی کا مزید کہنا تھا کہ بطور آرمی چیف جنرل باجوہ کا سب سے زیادہ فوکس انتہا پسندی پر رہے گا جبکہ اپنے پیشر و جنرل راحیل شریف کی طرح جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے دفتر میں سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے شہید بچوں کی تصاویر بدستور لگا رکھی ہیں۔ سعد نے بتایا کہ سانحہ 16 دسمبر کی شام جب ان کے والد دفتر سے گھر لوٹے تو بہت پریشان تھے وہ بار بار کہہ رہے تھے بہت ہو چکا ، اب اس کا خاتمہ ہونا چاہیے اور دہشتگردی کیخلاف اتفاق رائے ہونا بہت ناگزیر ہے کیونکہ یہ پاکستان کی بقا کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے ۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment