جمعرات, 03 دسمبر 2020


ظلم کی ایک نئی داستان


ایمز ٹی وی(اسلام آباد) اسلام آباد میں تشدد کا نشانہ بننے والی طیبہ کا اصل نام ثناءہے جو 2سال قبل رشتے داروں کو ملنے فیصل آباد جانے پر اغوا ہوگئی تھی

جس کا مقدمہ تو درج ہوا لیکن ملزمان آج تک کیفر کردار تک نہ پہنچے اور نہ ہی بچی کی برآمدگی ہوسکی، ٹی وی چینلز پر تصویریں دیکھیں تو والدہ سمیت اہلخانہ اور رشتے داروں نے پہچان لیا۔ نواحی گاﺅں موضع کرم کاٹھیا کی رہائشی کوثر بی بی نے پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 2سال قبل 7سالہ ثناءاپنے والد محمد نواز کے ہمراہ فیصل آباد رشتے داروں کو ملنے کے لیے گئے تو ملزمان نے ثناءکو اغوا کرلیا اور جواز پیش کیا کہ وہ گھر سے فرار ہوگئی ہے جس کا ہائی کورٹ لاہور کے حکم پر والدہ کوثر بی بی کی مدعیت میں تھانہ صدر فیصل آباد میں اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا لیکن دوران تفتیش ملزمان کے بااثر ہونے کی وجہ سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ کوثر بی بی نے بتایا گزشتہ روز جب اچانک طیبہ تشدد کیس اسلام آباد ٹی وی چینلز پر نشر ہوا تو کئی رشتے داروں نے فون پر بتایا کہ آپکی بیٹی ثناءکی تصویریں ٹی وی چینلز پر آرہی ہیں خود دیکھنے پر یقین آیا۔ کوثر بی بی نے وزیراعظم، چیف جسٹس اور وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ میری بیٹی کو فی الفور میرے حوالے کیا جائے

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment