ھفتہ, 24 اگست 2019


39ملکی فوجی اتحاد کے سربرا جنرل راحیل شریف

 

ایمز ٹی وی(اسلام آباد) سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کی جانب سے 39ملکی فوجی اتحاد کی سربراہی کرنے پر میڈ یا اور سیاسی حلقوں میں تشویش پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے

اور اس سلسلے میں بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔بتا یا جا رہا ہے کہ اسلامی فوج کے اتحاد کی سربراہی کے حوالے سے ابھی تک ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف نے حکومت کو بھی باقاعدہ طور پر آگاہ نہیں کیا ۔

سینئر صحافی و کالم نگار حامدمیر نے اپنے تازہ کالم میں لکھا ہے کہ ہر پیشے کچھ اپنے تقاضے اور اصول ہوتے ہیں ۔ایک آرمی چیف عام طور پر اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک اندرون ملک یا بیرون ملک کوئی ملازمت نہیں کرتا ۔اگر 39ممالک کی فوج کی سربراہی جیسا اہم معاملہ ہو تو پھر جنرل راحیل شریف جیسے ذمہ دار انسان کو چاہئے تھا

کہ وہ اپنی حکومت سے باقاعدہ صلاح مشورہ کرتے ۔آپ کو یہ سن کر حیرانی ہوگی کہ انہیں سعودی عرب کی سربراہی میں قائم کی گئی اتحادی فوج کا کمانڈر انچیف بنانے کے بارے میں ابھی تک حکومت پاکستان کو سرکاری طور پر کچھ نہیں بتا یااور نہ ہی حکومت سے کوئی منظوری لی گئی ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ راحیل شریف نے انفرادی حیثیت میں کوئی فیصلہ کر لیا ہے ۔حالانکہ اس اہم عہدے کے لیے راحیل شریف کی بحثیت فرد کوئی اہمیت نہیں ،اصل اہمیت پاکستانی فوج کی ہے

جس کے اجتماعی کردار نے راحیل شریف کو عزت بخشی ۔راحیل شریف نومبر 2013میں آرمی چیف بنے اور صرف تین ماہ کے بعد فروری 2014میں انہیں سعودی عرب کے بڑے ایوارڈ ”آرڈر آف عبد العزیز السعود “سے نوازا گیا ۔یہ ایوارڈ ایک برادر اسلامی ملک کی طرف سے راحیل شریف کو نہیں بلکہ پاکستانی فوج کے سربراہ کو دیا گیا تھا ۔

یہ ایوارڈ وصول کرنے والے راحیل شریف سعودی اتحادی فوج کے سربراہ بن کر پاکستانی فوج کے عملی تعاون کے محتاج ہونگے ۔وہ بھول گئے کہ 2015میں جب وہ خود آرمی چیف تھے تو پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت نے فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان یمن کے بحران میں غیر جانبدار رہے گا ۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک قرار داد منظور ہوئی تھی جس میں طے کیا گیا

کہ پاکستان یمن کے معاملے میں غیر جانبدار رہ کر قیام امن کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرے گا ۔لیکن اگر سعودی عرب کی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی تو پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کی حمایت کی جائے گی ۔راحیل شریف کی طرف سے سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی کا فیصلہ اس قرار داد کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا ۔”پروفیشنل ازم “کا تقاضا تھا کہ کم از کم وہ اپنی حکومت اور ادارے سے تو پوچھ لیتے ۔پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے ہر وقت کوئی بھی قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے لیکن اس کا قدم پارلیمنٹ کی قرار داد میں طے کردہ دائرے سے باہر نکل گیا تو معاملات بگڑ سکتے ہیں اور تاریخ نواز شریف کو معاف نہیں کرے گی

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment