جمعہ, 05 مارچ 2021


پانامہ لیکس مقدمہ ہی نوازشریف حکومت کے ڈوبنے کا سبب بنے گا،سراج الحق

 

ایمز ٹی وی(اسلام آباد) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ سرکاری وکیل کی قانونی موشگافیوں سے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سزا سے نہیں بچیں گے، وزیراعظم کی تقریر اور قوم سے خطاب ان کے گلے کی ہڈی بن گئی ہے نہ نگل سکتے ہیں اور نہ اگل سکتے ہیں، بی بی سی کی رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ وزیراعظم کا عدالت میں موقف جھوٹ پر مبنی ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ آج پانامہ کیس کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے جو قانونی موشگافیاں بیان کی ہیں مجھے یقین ہے کہ وہ اس سے وزیراعظم کو نہیں بچا سکیں گی۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی تقریر میں بہت زیادہ تضادات موجود ہیں۔ وزیراعظم کی تقریر اور قوم سے خطاب ان کے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نہ اس کو قبول کر سکتے ہیں اور نہ ہی قے کر سکتے ہیں۔ حکومت کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ حقائق کو تسلیم کرے۔ سراج الحق نے کہا کہ آج سپریم کورٹ میں جماعت اسلامی نے ایک اور پٹیشن جمع کی ہے، اس پٹیشن میں ہم نے یہی موقف اختیار کیا ہے کہ ہر دن دنیا میں نئی چیزیں سامنے آ رہی ہیں، اس سے اس بات کو تقویت مل رہی ہے، وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اور ان کے خاندان کی جو جائیدادیں ہیں، اس حوالے سے سپریم کورٹ میں ان کی وضاحتیں جھوٹ پر مبنی ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ بی بی سی نے جو رپورٹ پیش کی ہے دستاویزات کے ساتھ ہم نے اس کو اپنی پٹیشن کا حصہ بنایا ہے، بی بی سی ایک مستند ادارہ ہے اور وہ پوری ریسرچ اور تحقیق کے بعد موقف کا اظہار کرتا ہے، مجھے یقین ہے کہ پانامہ لیکس کا فیصلہ آئے گا اور اس کے بعد پاکستان میں کرپشن کے لئے راستے بند ہو جائیں گے اور پانامہ لیکس مقدمہ ہی نوازشریف حکومت کے ڈوبنے کا سبب بنے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بی بی سی کی رپورٹ پانامہ مقدمہ پراثرانداز ہو گا، بی بی سی رپورٹ میں دستاویزات موجود ہیں اور فلیٹ کے بارے میں رپورٹ میں جو موقف اختیار کیا گیا ہے وہ اس رپورٹ کی روشنی میں سوفیصد جھوٹ ثابت ہو گا۔قبل ازیں سپریم کورٹ بار کے ممبران سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہوں نے کہا حکومت کو وکلا کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں جماعت اسلامی وکلا برادری کے ساتھ ہے۔ دریں اثنا امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی زیر صدارت اسلام آباد میں جماعت اسلامی کی قانونی کمیٹی کے اجلاس میں پانامہ لیکس کیس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دستور پاکستان کی دفعہ 62۔63 کے حوالے سے غور کیا گیا اور پارلیمنٹ میں زیر غور نیب آرڈی نینس و دیگر قوانین میں ترمیم ، انتخابی اصلاحات کے سرکاری مسودہ پر بریفنگ ، فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے دستور میں ترمیم کے ایجنڈے پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اجلاس میں جماعت اسلامی کی قانونی کمیٹی کے صدر اسد اللہ بھٹو ایڈووکیٹ ، نائب امراء ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ،پروفیسر محمد ابراہیم اور میا ں محمد اسلم سمیت سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس میں جماعت اسلامی کے وکلا نے بھی شرکت کی

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment