جمعہ, 27 مئی 2022


پانامہ کا مقدمہ جلد ختم ہو گا ، فواد چوہدری

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد) پاناما کیس کی سماعت کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےفواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان کا کہنا ہے کہ حسین نواز نے جو تحائف نواز شریف کو بھیجے اس پر ٹیکس دینے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ جب باہر سے بینکنگ چینل کے ذریعے رقم بھیجتے ہیں تو اس پر ٹیکس دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس معاملے پر دو دلچسپ باتیں ہیں، ایک یہ کہ ہماری دلیل تھی کہ ان کے بقول حسین نواز 2005ءمیں سب کچھ بیچ چکے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والے پیسے حسن نواز کو کاروبار کیلئے دے چکے ہیں تو یہ اربوں روپیہ جو حسین نواز سعودی عرب سے پاکستان بھیج رہے تھے یہ ان کے پاس کیسے آیا، اس معاملے پر مخدوم علی خان نے ایک لفظ بھی نہیں کہا اور موقف اختیار کیا کہ بچوں کے وکیل بات کریں گے۔
 
دوسری اہم چیز یہ ہے کہ یہ پیسے حسین نواز کے پاس کہاں سے آئے، اگر ہم ایف آئی اے کی رپورٹ کو دیکھیں، اسحاق ڈار کے ایفی ڈیویٹ کو دیکھیں، بی بی سی کی ڈاکیومینٹری کو دیکھیں تو اس سوال کا جواب بڑا واضح ہو کر سامنے آجاتا ہے۔ پشاور کے دو حوالہ ڈیلرز استعمال کئے گئے اور اربوں روپیہ پاکستان سے باہر بھیجاگیا اور پھر وہ پیسہ پاکستان واپس آیا لیکن مخدوم علی خان کہہ رہے ہیں کہ اس کی تحقیقات عدالت نہیں کر سکتی۔
 
گزشتہ روز سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ استحقاق ہے اور استثنیٰ کی باتیں کی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ عدالت یہ نہیں کر سکتی، عدالت وہ نہیں کر سکتی، لیکن عدالت آرٹیکل 184/3 میں قرار دے چکی ہے کہ یہ پٹیشن قابل سماعت ہے اور جب عدالت ایسا کہہ چکی ہے تو پھر تمام تحقیقات کرنے کی بھی مجاز ہے اور یہ معاملہ کہ اربوں روپے باہر کیسے گئے اور واپس کیسے آئے، ایک اہم جزو ہے۔
 
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ گزشتہ روز ایک اور لطیفہ ہوا کہ مریم نواز شریف نے اپنا جواب جمع کرایا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اپنے والد کی نہیں بلکہ میاں محمد نوا زشریف کی والدہ یعنی اپنی دادی کی زیر کفالت ہیں اور ان کے گھر میں رہ رہی ہیں اور نواز شریف کی والدہ نواز شریف کی زیر کفالت ہیں، یعنی نواز شریف کی والدہ نواز شریف کی اور نواز شریف کی بیٹی ان کی والدہ کی زیر کفالت ہیں۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے وزیراعظم نواز شریف کو ڈیووس جانے سے منع کیا تھا لیکن وہ وہاں گئے جس کے باعث پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے کیونکہ وہاں آنے والے بین الاقوامی مقررین نے یہ کہا ہے کہ پانامہ پیپرز دنیا میں کرپشن کی ایک نئی داستان ہے اور نواز شریف اس کے اہم کھلاڑی ہیں، نواز شریف کے وہاں جا کر کرپشن کے خلاف بات کرنا ایسے ہی ہے جیسے الطاف حسین دہشت گردی کے خلاف بات کریں۔ پانامہ کا مقدمہ جلد ختم ہو گا اور پاکستان کے لوگ جس انصاف کی توقع کر رہے ہیں وہ انہیں ملے گا۔
 
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماءفواد چوہدری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں دلائل کی شکل میں لطیفے سنائے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کے وکیل کا کہنا ہے کہ عدالت اس بات کی تحقیقات نہیں کر سکتی کہ اربوں روپے پاکستان سے باہر کیسے گئے اور پھر واپس پاکستان کیسے آئے۔ وزیراعظم نواز شریف کے ڈیووس جانے سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ پانامہ کیس کا فیصلہ جلد ہو گا اور پاکستان کے عوام جس انصاف کی توقع کر رہے ہیں وہ انہیں ملے گا۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment