جمعرات, 15 اپریل 2021


گالیاں نہیں دوگے تو وزیر نہیں بناﺅں گی

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد) پاناما کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ میں اپوزیشن والا کام کر رہا ہوں ، مریم نواز لیگی وزراءاور دانیال عزیز کو مجھے گالیاں دینے کے بدلے وزارتیں دینے کا کہتی ہیں ۔”مریم نواز دانیال سے پوچھتی ہیں کہ آج عمران خان کو گالیاں نکالیں یا نہیں تو وہ کہتے ہیں کہ بہت کوشش کی جس پر مریم کہتی ہیں کہ گالیاں نہیں دوگے تو وزیر نہیں بناﺅں گی “
عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز کیس کو تفصیل سے سن رہے ہیں اور سب کو پورا ٹائم دے رہے ہیں ۔’سپریم کورٹ کے فیصلے سے نیا پاکستان بنے گا “۔ آئی ایم ایف سے پچھلے تین سالوں میں جتنا قرضہ لیاگیا اتنا ہی پیسہ ملک سے باہر بھیجا گیا ۔انکا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایک دستاویز کے علاوہ ایسی کوئی دستاویز نہیں جس کی عدالت کو تصدیق کرانا پڑے۔
چیئرمین تحریک انصاف کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف نے پارلیمنٹ میں کہا کہ میرے پاس دستاویز ہیں مگر انکے وکیل نے کوئی کاغذ عدالت میں نہیں دیا۔”نوازشریف اپنی تقریر سے پیچھے ہٹ رہے ہیں “۔ ہم جب دھرنا دے رہے تھے تو یہ کہتے تھے کہ پارلیمنٹ آﺅ اور اب کہتے ہیں استثنیٰ دیا جائے ،”ہم کدھرجائیں “۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بھی سمجھ گیا ہے کہ اس کیس کے پاکستان پر بڑے اثرات ہونگے اور کس طرح کا پاکستان بنے گا ۔
عمران خان نے کہا کہ ن لیگ یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ اگر عمران خان کو برا بھلا کہو تو شائد نوازشریف پر کیس میں رعائت مل جائے ۔”اگر میں غلط ہوں تو اسکا نوازشریف کے کیس سے کیا تعلق ہے “۔
انکو دوسروں کو برا بھلا کہنے کی عادت پڑچکی ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ پاکستان کا پیسہ چوری ہوا مگر یہ کہتے ہیں کہ لندن فلیٹس ہمارے نہیں ۔ ”ایشو یہ ہے کہ ملک کا سربراہ عوام کے پیسے کا نگران ہوتا ہے “ ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ پہلی بار پھنس گئی ہے ، جب مان لیا کہ لند ن فلیٹس ہمارے ہیں تو منی ٹریل کا بتائیں
کہ وہ کہاں ہے ۔”آپ کو عدالت میں منی ٹریل دینی پڑیگی “۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم نوازشریف کو اس ملک کا سب سے بڑا کرپٹ آدمی کہتے ہیں اور اپنے اس موقف پر قائم ہیں ۔”اگر آپ کرپٹ کو بڑا کرپٹ نہیں کہیں گے تو آپ ظلم کر رہے ہیں “۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے نیا پاکستان بنے گا ۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment