اتوار, 29 نومبر 2020


عدالت عظمیٰ میں مریم نواز کے دستاویزات مسترد

 

ایمزٹی وی(اسلام آباد)سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت ہوئی سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل نے دلائل مکمل کئے جس کے بعد مریم نواز کے وکیل شاہد حامد نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے موکلہ کا تحریری بیان سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ یہ دستاویز بغیر دستخط کیسے جمع کروا رہے ہیں ؟ وکیل شاہد حامد نے جواب دیا کہ اپنے موکل کی جانب سے مکمل ذمے داری کیساتھ بیان جمع کر ا رہا ہوں ، دستاویز پر مریم نواز کے دستخط نہ ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے انہیں مسترد کر دیا ۔
ان دستاویز میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی کے حاضر سروس کیپٹن صفدر سے 1992ءمیں شادی ہوئی اور بعد ازاں میرے شوہر نے سول سروسز جوائن کی اور 1986ءسے ٹیکس ادا کر رہے ہیں ۔ 2000ءمیں والدین کے ساتھ سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا ۔
دستاویز میں مریم نواز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہمارے 3بچے ہیں جن میں ایک بیٹا اور 2بیٹیاں ہیں جبکہ میرا بیٹا درہام یونیورسٹی میں پڑھ رہا ہے ۔ہم شمیم ایگریکلچر فارمز رائے ونڈ روڈ میں موجود 5میں سے ایک گھر میں رہتے ہیں ، رائے ونڈ کے تمام گھر میری دادی شمیم اختر کے ہیں ۔
مریم نواز نے اپنی دستاویز میں مزید کہا ہے کہ 2000ءمیں ہمیں جلا وطن کیا گیا اور میں والد ین کے ہمرا ہ سعودی عرب چلی گئی ۔میرے شوہر بھی میرے ہمراہ تھے ، میرے والد اور شوہر کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا ۔2007ءمیں جلا وطنی ختم کر کے واپس آئے اور شمیم ایگریکلچر فارم میں رہائش کی ۔ میرے شوہر 2008ءاور 2013ءمیں ایم این اے منتخب ہوئے ۔ شوہر کی آمدن بطور گورنمنٹ ملازم آتی رہی جسکی تفصیلات عدالت کو فراہم کر دیں ۔ میرے والد نے مجھے بھی قیمتی تحائف دیے وہ شفقت کے تحت دیے گئے ۔مجھے دیے گئے تحفوں میں میری والدہ اور بھائیوں کی رضامندی شامل تھی۔1992ءکے بعد سے میں کبھی بھی اپنے والد کے زیر کفالت نہیں رہی ۔

 

پرنٹ یا ایمیل کریں

Leave a comment